تل ابیب (اے بی این نیوز)اسرائیلی حکومت نے وزیر اعظم کے قتل سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد افواہیں قرار دے دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مکمل طور پر زندہ اور محفوظ ہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آ رہے تھے کہ بارہ مارچ کو جاری ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد وزیر اعظم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ اس ویڈیو میں ایران کے سپریم لیڈر کو سخت دھمکیاں دی گئی تھیں جبکہ ویڈیو میں ان کے ہاتھ میں بظاہر چھ انگلیاں نظر آنے پر صارفین نے اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیو قرار دیا تھا۔
اس ویڈیو کے بعد افواہوں کا سلسلہ تیزی سے پھیل گیا اور یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب اسرائیل میں ہونے والے ایک اہم سیکیورٹی اجلاس اور اس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بھی وزیر اعظم نظر نہیں آئے، جس کے بعد افواہوں نے مزید زور پکڑ لیا۔
بعد ازاں اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ بیان جاری کر کے ان تمام خبروں کو مسترد کر دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ وزیر اعظم زندہ ہیں اور معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو ان کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ بچوں کے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
مزید پڑھیں :ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب زندہ نہیں،ٹرمپ کا دعویٰ















