وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات ( PetrolPrices )کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلہ جمعہ کو کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں قیمتوں میں ممکنہ ردوبدل کی بحث تیز ہو گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان کو شدید معاشی دباؤ (OilCrisis )کا سامنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کا ہفتہ وار تیل کا بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور عالمی حالات کے اثرات براہ راست پاکستان کی معیشت پر پڑ رہے ہیں، تاہم حکومت صورتحال کو سنبھالنے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ؟ نئے بحران نے جنم لے لیا، پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں
سفارتی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عالمی کشیدگی میں اہم کردار ادا کیا اور امن کے قیام کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی جاری رکھی اور ساڑھے 3 ارب ڈالر کے قرضے واپس کیے، جو معاشی نظم و ضبط کی علامت ہے۔















