واشنگٹن (اے بی این نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائی نہ گئیں تو امریکی افواج بڑی فوجی کارروائی کریں گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائی ہوگی جس کے نتائج ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے، اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی افواج نے پہلے ہی بارودی سرنگیں بچھانے والی دس غیر فعال کشتیوں یا جہازوں کو نشانہ بنایا اور انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی پانیوں میں ایران کے ایسے اقدامات عالمی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور امریکا خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے کسی بھی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ک مزید کہا کہ ایران میں نشانہ بنانے کیلئے عملی طورپر کچھ باقی نہیں بچا۔ میرے خیال میں تیل کمپنیوں کو آبنائے ہرمز استعمال کرنا چاہیے۔
ہم اسی طرح کام جاری رکھیں گے ،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
امریکی فوج نے ایران کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کے پاس اس وقت طیارے بھی نہیں بچے۔ مجھے امریکا میں ایران کے حمایتی کسی حملے کی کوئی فکر نہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر سے متعلق گفتگو نہیں کروں گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نہیں بچھائیں۔
دوسری جانب ایران کے حکام نے امریکی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام ٹرمپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تعداد ایک ہزار تین سو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ نو ہزار چھ سو انہتر شہری مقامات اور سات ہزار نو سو تینچاس رہائشی مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ ان حملوں کے اثرات نہ صرف انسانی نقصان کا سبب بنے ہیں بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران میزائل حملوں کی ۳۹ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکی، اسرائیلی اور ان کے اتحادی ممالک کے جہاز اہم ہدف ہیں۔
پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی امریکی یا اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران سمندری راستوں پر مکمل کنٹرول رکھے گا اور آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی بلا اجازت نہیں گزرنے دیا جائے گا۔















