تہران (اے بی این نیوز )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی فوج کی جانب سے ایک اہم دعویٰ سامنے آیا ہے جس نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی فوجی کمانڈر جنرل فداوی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ نے خلیج کے علاقے سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے اور اب تقریباً سات سو کلومیٹر تک سمندر میں کوئی امریکی جنگی جہاز موجود نہیں۔
ایرانی کمانڈر کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکی بحری بیڑے نے اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور خلیج کے پانیوں میں ہونے والی ہر سرگرمی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے سمندری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنرل فداوی نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر کسی مرحلے پر ایران کے خلاف بحری کارروائی کی کوشش کی گئی تو ایرانی افواج کے پاس امریکی طیارہ بردار بیڑے کو نشانہ بنانے اور اسے تباہ کرنے کا خصوصی منصوبہ موجود ہے۔ ان کے بقول ایرانی فوج نے سمندری جنگ کے مختلف پہلوؤں پر طویل عرصے سے تیاری کر رکھی ہے اور جدید میزائل سسٹمز کے ذریعے بڑے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔















