اہم خبریں

امریکہ کیلئے نئی پریشانی ،شمالی کوریا ایران کے حق میں میدان میں آگیا،بڑا بیان داغ دیا

پیانگ یانگ (اے بی این نیوز      )ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی جب ایک مشرقی ایشیائی ملک نے اپنے نئے جنگی بحری جہاز سے کروز میزائل کا تجربہ کامیابی سے مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ تجربہ مغربی ساحل کے قریب سمندر میں کیا گیا جہاں جدید بحری جہاز سے فائر کیے گئے میزائل نے اپنے ہدف کو درست انداز میں نشانہ بنایا۔ اس پیش رفت کو خطے میں دفاعی صلاحیتوں کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اسے عالمی سطح پر بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس میزائل تجربے کی نگرانی ملک کے سربراہ نے خود کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ دفاعی طاقت میں اضافہ موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر ہو چکا ہے اور ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدید دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کے بقول اس تجربے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہے۔

بحری جہاز سے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس ملک کی بحری دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایسے میزائل سمندر سے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے بحری جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بھی ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کسی بھی ملک کے سیاسی نظام یا علاقائی خودمختاری کو نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کریں۔ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی پوری دنیا کو مخالفت کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ایک بڑی عالمی طاقت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک مشرقِ وسطیٰ کے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کرنا چاہیے۔

حالیہ میزائل تجربہ اور اس کے ساتھ دیا گیا سیاسی بیان اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس پیش رفت پر شدید بحث جاری ہے جہاں کچھ صارفین اسے طاقت کے اظہار سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ دیگر اسے عالمی کشیدگی میں اضافے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں :آنے والے دنوں میں موسم کیسا رہے گا،کہاں کہاں بارش اور ژالہ باری ہو گی،جا نئے

متعلقہ خبریں