اسلام آباد(اے بی این نیوز )خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور اس معاملے پر انسانی ہمدردی کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اہل خانہ کی مشاورت کے بغیر کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا اور بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں دائر درخواستوں پر سماعت نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، 200 سے زائد پارلیمنٹیرینز کی درخواست بھی زیر التوا ہے، آخر انصاف میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ ملاقاتوں اور طبی سہولیات سے متعلق کیسز فوری طور پر مقرر کیے جائیں۔ ان کے مطابق پارٹی کی صوبائی قیادت نے عوام کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے لیکن اب پارلیمانی نمائندوں پر بھی لازم ہے کہ وہ عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے سینیٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی آف پاکستان میں نشستیں دیں، اب قیادت پر فعال کردار ادا کرنا لازم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ بانی کے کیسز کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرائیں۔ پارلیمانی نمائندے صرف عہدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کو واضح چارٹر اور حکمت عملی کے ساتھ کارکنان کو اعتماد میں لینا ہوگا اور بانی کے قانونی معاملات پر مربوط اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
شفیع جان نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر احتساب اور کارکردگی کا جائزہ ناگزیر ہے۔ رہائی فورس ہر صورت قائم کی جائے گی اور سیاسی کمیٹیوں کے دو اہم اجلاس ہو چکے ہیں۔ کچھ رہنماؤں کی تجاویز کی روشنی میں حکمت عملی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تحریک منظم اور مؤثر ہوگی تو وزیراعلیٰ بھی بھرپور کردار ادا کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ سٹریٹ موومنٹ کے تناظر میں جدوجہد پرامن ہوگی اور کسی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کے لیے سیاسی اور آئینی راستہ ہی اختیار کیا جائے گا۔ اے بی این نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
26 نومبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارکنان اسے ریاستی سخت ردعمل کی مثال قرار دیتے ہیں، 16 کارکن جاں بحق ہوئے اور پارٹی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج عوامی دباؤ کے ذریعے تھا اور کارکنان کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔ اداروں سے انصاف نہ ملنے کے باوجود آئینی راستہ ترک نہیں کیا گیا۔
انہوں نے عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ کیسز مقرر کر کے میرٹ پر فیصلے سنائے جائیں، تاریخیں تبدیل کرنے کے بجائے باقاعدہ سماعت کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی کشیدگی کا حل قانون کے دائرے میں ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔















