اہم خبریں

امریکہ ایران جنگ،تاریخ کے آئینے میں،جا نئے پس پردہ اصل حقائق،تحقیقاتی رپورٹ میں

ایران-امریکہ جوہری مذاکرات ایک منصوبہ بندی کے تحت تناظر میں ہوئے(     iran   ) جہاں سفارت کاری اور فوجی اشاروں نے مل کر کام کیا۔ سالوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور 2015 کے جوہری ۔معاہدے (JCPOA) کی ناکامی کے بعد، واشنگٹن اور تہران 2026 کے اوائل میں بالواسطہ مذاکرات میں دوبارہ شامل ہوئے۔ اس کا مقصد ایک ایسا ترمیمی ڈھانچہ تیار کرنا تھا جو پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کی یورینیم افزودگی اور جوہری (        strait of hormuz  )صلاحیت کو محدود کر دے۔ یہ مذاکرات جنیوا اور مسقط جیسے غیر جانبدار مقامات پر ہوئے، لیکن ان کے پیچھے پورے مشرق وسطیٰ (      america) میں بڑھتی ہوئی فوجی صف بندی موجود تھی۔ امریکہ نے خطے میں اپنی بحری موجودگی، کیریئر اسٹرائیک گروپس اور تزویراتی افواج کی تعیناتی کے ذریعے سفارتی دباؤ کو بڑھانے کے لیے تخریبی اشاروںکااستعمال کیا۔ جہاں امریکی حکام نے ان اقدامات کو جارحیت روکنے اور کشیدگی سے بچنے کا ذریعہ قرار دیا، وہیں(      trump ) تہران نے مذاکرات میں شمولیت کو جنگ روکنے اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کی ایک تزویراتی تدبیر کے طور پر پیش کیا۔

ان مذاکرات کی جغرافیائی سیاست گہری دشمنیوں پر مبنی ہے۔ روس اور ایران کے تزویراتی اتحاد کی بحالی نے علاقائی طاقت کا توازن بدل دیا ہے، جس سے امریکہ کے لیے حساب کتاب پیچیدہ ہو گیا ہے۔ تہران کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ایک کثیر قطبی دنیا میں کام کر رہا ہے، نہ کہ یکطرفہ مغربی غلبے کے تحت۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے ایران کی سودے بازی کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور امریکہ کی تنہا کرنے والی طاقت کو کمزور کر دیا۔جوہری بحران طویل عرصے سے جاری اسرائیل-ایران تنازع میں بھی پیوست ہے۔ تہران اور تل ابیب کے درمیان دشمنی نے ایران کے جوہری پروگرام کو محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور سیکورٹی تنازع بنا دیا ہے۔ اس مقابلے میں جوہری صلاحیت ایک ڈیٹرنٹ کا کردار ادا کرتی ہے۔ تہران میں امریکی فوجی تعیناتیوں کو سودے بازی کے بجائے اسرائیل کے فوجی مقاصد کو پورا کرنے والی ایک وسیع تر گھیراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔-2026 کے مذاکرات کا راستہ ظاہر کرتا ہے کہ دباؤ اور سفارت کاری کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔

فروری 2026 کے آخر تک، بدنیتی کے الزامات اور جارحانہ فوجی کارروائیوں کے باعث مذاکرات ناکام ہو گئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں نے ایرانی فوجی اور تزویراتی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس نے ا “سگنلنگ کو باقاعدہ جنگ میں بدل دیا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں علاقائی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تاکہ جنگ کو وسیع کیا جا سکے اور دباؤ کے سفارتی نظام کو طویل مدتی علاقائی جنگ میں بدل دیا جائے۔اس کشیدگی کا عروج ایرانی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت تھی۔ 28 فروری 2026کو ایک مشترکہ فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایرانی تزویراتی کمانڈ کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس حملے میں کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما بھی مارے گئے، جس سے قیادت کا خلا پیدا ہوا اور جوابی کارروائی کی لہر میں شدت آئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپریل 2026ء کی صورتحال ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے، جہاں 40 دن کی شدید امریکی/اسرائیلی بمباری کے بعد پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔

مزید پڑھیں :ملک گیر احتجاج ، شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

2026ء اپریل کے وسط میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کے باعث اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے۔ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد نے ایران کے ساتھ بات چیت کی، لیکن کسی حتمی معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم ہوئے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدہ ہوجاتا لیکن چند نقات پر اتفاق نہ ہو سکا۔اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اب بھی 2 بڑے اختلافات موجود ہیں جن میں جوہری پروگرام اور ایرانی بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ایران نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ دوران مذاکرات نیتن یاہو کا جے ڈی وینس و کو ٹیلی فون بھی کیا گیا۔

کیا ان مذاکرات کی اختتام پذیر نہ ہونے کے پیچھے یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔پاکستان نے اس بحران میں سب سے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔پاکستان نے دونوں دشمن ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے غیر معمولی ریاستی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔مزیدبراںایران نے بھی پاکستان کی قیادت کی تعریف کی ۔نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پوری دنیا پاکستان کی کاوشوں کو سراہتی ہے۔پاکستان کی کوششوں سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی اور خطے میں بڑے پیمانے کی جنگ کو فی الحال روکا گیا۔امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں پھر سے شروع ہو گا۔اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یہ تیسری بڑی عالمی جنگ کا سبب بنے گی۔
امریکہ کے اندر سے ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت موقف اور جنگ کے خطرے کے خلاف عوام اور اپوزیشن دباؤ ڈال رہے ہیں، کیونکہ وہ ایک اور بڑی مشرق وسطیٰ کی جنگ نہیں چاہتے۔ روس اور چین ایران کے اہم اتحادی ہیں وہ خطے میں اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایران کی حمایت جاری رکھیں گے اور کسی بھی بڑی امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں سفارتی اور ممکنہ طور پر فوجی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔چین اس راستے کی بندش کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا کیونکہ اس کا 13% خام تیل ایران سے آتا ہے۔ اگر امریکہ ایسا کرتا ہے تو یہ براہِ راست چین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوگا۔ ایران نے اس دھمکی کو سمندری قزاقی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ پڑوسی خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کے خلاف سخت کارروائی کر سکتا ہے۔
اسرائیل کیوں جنگ بندی نہیں چاہتا؟
اسرائیل ایران کو خطے میں اپنے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے۔ تاریخی طور پر، اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور پراکسیز (حزب اللہ، حماس) کو صرف فوجی طاقت سے ہی روکا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، اسرائیل اس تنازع کو ایران کے اندرونی دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے نزدیک موجودہ علاقائی کشیدگی کا ایک بڑا مقصد تیل کی ترسیل کے لیے عالمی “چوک پوائنٹس جیسے کہ آبنائے ہرمزاور باب المندب پر انحصار ختم کرنا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک متبادل راستہ ناگزیر ہے۔ ان کی تجویز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سعودی عرب سے تیل اور گیس کی پائپ لائنیں جزیرہ نما عرب کے راستے براہِ راست اسرائیل کی بحیرہ روم پر واقع بندرگاہوں تک پہنچائی جائیں۔
اس راستے سے گزرنے والا تیل اسرائیل کے ذریعے سیدھا یورپ کو سپلائی کیا جائے گا، جس کا سب سے بڑا معاشی فائدہ اسرائیل کو ہوگا۔
اس وقت تیل کی ترسیل کا روایتی راستہ آبنائے ہرمز سے شروع ہوتا ہے، جہاں ایران کا کنٹرول حاصل ہے، اور پھر باب المندب سے ہوتا ہوا بحیرہ احمر تک پہنچتا ہے نیتن یاہو کے منصوبے کا مقصد:
1. جہاز رانی کی ضرورت کو کم کرنا۔
2. ایران کے سیاسی اور عسکری دباؤ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا۔
3. تیل کی سپلائی کو محفوظ اور تیز تر بنانا۔
الجزیرہ کے مطابق اس منصوبے کو سعودی عرب ایسٹ-ویسٹ پیٹرولائن کہا جا رہا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں سعودی عرب نے اس منصوبے کو فوری طور پر قبول نہیں کیا تھا، لیکن موجودہ حالات اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خطرات نے سعودی عرب کو اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
نیتن یاہو کے نزدیک اس جنگ کا اختتامی نتیجہ ایک ایسا نیا نظام ہونا چاہیے جہاں ایران کا کردار مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اسرائیل، عالمی توانائی کی ترسیل کی گزرگاہ بن کر ابھرے۔
اگرچہ 2026ء کی جنگ ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن روس اور چین کی مداخلت اور پاکستان کی ثالثی نے اسے تین بڑی طاقتوں کے براہ راست تصادم سے بچایا ہے۔ یہ جنگ زیادہ تر ایران کے میزائل اور ڈرون بمقابلہ امریکہ/اسرائیل کی فضائی طاقت تک محدود رہی ہے، جسے غیر متوازن جنگ کہا گیا ہے۔
مریکہ اب مشرق وسطیٰ میں تنہا فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، کیونکہ ایران نے اسرائیل کے حملوں کا جواب دیا ہے، جس سے امریکی/اسرائیلی ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر ختم ہوا ہے۔
یہ جنگ ایک ابھرتے ہوئے نئے عالمی نظام کا حصہ ہے، جہاں روس اور چین امریکی بالا دستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
2026ء میں پاک-چین-روس کی مشترکہ سفارت کاری نے ایران کو جنگ کے بڑے نقصان سے بچایا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اب وہ دوبارہ براہِ راست حملے کی جرات نہیں کریں گے کیونکہ اس سے امریکی معیشت اور ان کی اپنی سیاست کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں