اسلام آباد (اے بی این نیوز )پی ٹی آئی اور عمران خان کے خاندان کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین نے باقاعدہ تجاویز پیش کر دی ہیں تاکہ پارٹی اور خاندان کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں ختم کی جا سکیں۔تحریک تحفظ آئین کا مؤقف ہے کہ اختلافات سے بچنے کے لیے پارٹی قیادت اور خاندان کو اکٹھے چلنا ہوگا، ورنہ سیاسی اور تنظیمی معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جو مستقبل میں پارٹی کے معاملات اور بانی کی صحت سے متعلق فیصلوں کو مربوط انداز میں چلائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ خصوصی کمیٹی میں علیمہ خان، دونوں اپوزیشن لیڈر اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی میں صرف سیاسی شخصیات اور خاندان کے افراد شامل ہوں جبکہ کسی بھی وکیل، بشمول بیرسٹر گوہر، کو شامل نہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کا مقصد پارٹی فیصلوں اور بانی کی صحت سے متعلق امور کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر طے کرنا ہے تاکہ اختلافی بیانات اور متضاد فیصلوں کا سلسلہ رک سکے۔
تاہم ابتدائی طور پر علیمہ خان نے اس تجویز پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا اور معاملہ تاحال زیر غور ہے۔سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پارٹی کے مستقبل اور اندرونی ہم آہنگی کا دارومدار اسی طرح کے اتفاق رائے پر ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی،عمران خان،علیمہ خان،تحریک تحفظ آئین،سہیل آفریدی،بیرسٹر گوہر،سیاسی اختلافات،خصوصی کمیٹی،پارٹی اتحاد
مزید پڑھیں :عمران خان سے کو ئی مخلص نہیں،سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں ہے،خوا جہ آصف















