پشاور (اے بی این نیوز )پشاور کے نزدیک باجوڑ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ابابیل سکواڈ پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔ واقعہ تحصیل خار کے علاقے نوی کلی میں پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز کی معمول کی گشت کے دوران حملہ کیا گیا۔
ایس ایچ او کے مطابق زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال خار منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ اور ابتدائی علاج کیا جا رہا ہے۔ حکام نے علاقے میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد باجوڑ اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی گشت بڑھا دی گئی ہے تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے واقعے کی ویڈیوز اور خبروں کو شیئر کیا اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا جا رہا ہے۔
پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس کی گشتی پارٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعے کا فوری نوٹس لیا ہے۔ واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہوں نے آئی جی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں پولیس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون اور حمایت کا بھی اعلان کیا۔سہیل آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ فورسز کے قربانی دینے والے اہلکاروں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور صوبے میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید مضبوط کیے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے پولیس کی قربانیوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف فورسز کے عزم کی تعریف کی
مزید پڑھیں :سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،34خا رجی ہلاک کر دیئے گئے















