انقرہ (نیوز ڈیسک) ترکیہ اور شام میں 7 اعشاریہ8 شدت کا زلزلہ ،ایک ہزار سے زائد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 4372 ہوگئی ، ترکیہ میں 2921 اور شام میں 1451 افراد جان کی بازی ہار گئے ،15 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ترکیہ میں شدید زلزلے سے عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، زلزلے کے خوف سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے،واضح رہے کہ زلزلے کے شدید ترین جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے، زلزلے کا مرکز ترکیہ سے 23 کلومیٹر جنوب میں تھا، جبکہ گہرائی 17 اعشاریہ 8کلومیٹر تھی۔زلزلے سے کہرمان، عثمانیہ، ملاطیا، دریار بکر سمیت 10 شہر زیادہ متاثر ہوئے، زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، اردن، لبنان، جارجیا اور آرمینیا میں بھی محسوس کئے گئے۔واضح رہے کہ ترکیہ میں 1939 میں بھی 7 اعشاریہ 8شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 30 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ گزشتہ روز آنے والے زلزلے کے شدید جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے تھے، زلزلے کے بعد اب تک ایک سو بیس آفٹر شاکس آچکے، قدرتی آفت کی وجہ سے ترکیہ بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔متاثرہ علاقوں میں 13 فروری تک اسکول بند کئے گئے ہیں جبکہ حکمرانوں نے عالمی امداد کی اپیل کی ہے۔ترک میڈیا کے مطابق ایمرجنسی کے بعد غازی انتپ اور حاطے ایئرپورٹ پر سول پروازیں معطل کی گئی ہیں، ترک صوبہ حاطے میں قدرتی گیس پائپ لائن میں آگ بھڑکنے کے بعد گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے۔















