اہم خبریں

آپ نےشعیب شاہین کی باضابطہ گرفتاری کی ہے تو وکلا کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس کا استفسار

اسلام آباد (اے بی این نیوز       )پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کو حبس بے جا میں رکھنے کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہو ئی۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی مختصر عدالتی نوٹس پر عدالت میں پیش ہو گئے ۔
چیف جسٹس عامر فاروق شعیب شاہین کے بیٹے حسن شعیب کی درخواست پر سماعتکی ۔ شعیب شاہین کے بھائی عمیر بلوچ درخواست گزار کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش۔
جی آئی جی صاحب، کدھر ہیں شعیب صاحب؟ چیف جسٹس کا استفسار۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ وہ اس وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ
آپ نے ان کی باضابطہ گرفتاری کی ہے تو وکلا کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی؟
وکلا کئی تھانوں میں انہیں تلاش کرتے رہے مگر وہ نہیں ملے۔ عمیر بلوچ ایڈووکیٹ نے بتا یا کہ تھانے گئے تو پولیس اہلکاروں کی جانب سے شدید بدتمیزی بھی کی گئی،درخواست گزار کی جانب سے سردار شہباز کھوسہ ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش ۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ شعیب شاہین کی گرفتاری تھانہ نون کی پولیس نے کی ہے۔ چیف جسٹس کا استفسار کہ کیا ان کے علاوہ بھی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے؟ ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد نے کہا کہ
مجھے شرم آتی ہے کہ میں شعیب شاہین کو ملزم کہوں چیمبر سے گرفتار کیا گیا۔ شعیب شاہین کی گرفتاری کی ویڈیو جج ابو الحسنات ذولقرنین کو دکھائی گئی۔ ریاست علی آزادایڈووکیٹ نے کہا کہ

ایک ایف آئی آر چھپا کر رکھی گئی ہے ،اگر شعیب شاہین اس میں ڈسچارج ہوں تو دوسری ایف آئی آر میں گرفتار کیا جائے۔ جج ابو الحسنات ذولقرنین نے استفسار کیا کہ شعیب شاہین سے کیا برآمد کرنا ہے ۔
جج ابو الحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیئے کہ

جتنے ملزمان ہیں سب کو لائیں شعیب شاہین کو الگ سے نہ رکھیں۔ شعیب شاہین کی حد تک کیا الزام ہے، جج ابو الحسنات ذولقرنین کا پراسیکیوٹر سے استفسار۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید ایف آئی آر پڑھ کر سنائی۔ پراسیکیوٹر نے بتا یا کہ عامر مغل اور شعیب شاہین کی ہدایت پر دہشت پھیلاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا۔
پولیس سے اینٹی رائیٹ گن چھینی گئی اور پولیس پر حملہ آور ہوئے۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ کی ایما پر لوگوں کو حراساں کیا گیا۔ پراسیکیوٹر نے شعیب شاہین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔
ریمانڈ دیا جائے شعیب شاہین سے برآمدگی کرنی ہے۔
این او سی کی خلاف ورزی کی گئی اس حوالے سے نیا قانون بھی ہے۔ این او سی 7 بجے تک ہے اور وقوعہ ساڑھے 6 کا بیان کیا گیا ہے ۔ جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے استفسارر کیا کہ
جلسہ کب سے کب تک تھا؟ جلسے کا بتائیں، انتظامیہ نے بتا کہ
جلسے کا وقت 4 سے 7 بجے تک تھا، امن و امان کا ایکٹ نیا آیا ہے، تحریک انصاف کا جلسہ چلتا رہا۔ پراسیکیوٹرراجہ نوید نے کہا کہ نے کہا کہ بہت کوشش کی امن و امان قائم رہے، جلسہ کی جگہ سے بارود بھی برآمد کیا ، تحریک انصاف کی قیادت نے اشتعال پیداکیا۔ شعیب شاہین اور عامر مغل نے ہدایت کی صرف یہ الزام ہے شعیب شاہین موقع پر موجود نہیں تھے،
ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ پراسیکیوشن کی جانب سے اختیار کا غلط استعمال ہے ہماری امید صرف عدالت ہے،ڈکیتی کی دفعات لگا دی گئیں کیا شعیب شاہین ڈکیت ہے۔

ریاست علی آزاد نے شعیب شاہین کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی۔ آندھی میں اتنے شاپر نہیں آتے جتنی پی ٹی آئی کے خلاف ایف آئی آرز ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں : سپیکر ایاز صادق آئی جی پر برہم، گرفتار پی ٹی آئی ایم این ایز کو رہا کرنے کاحکم

متعلقہ خبریں