کابل(نیوزڈیسک)افغانستان کےدورے کے دوران قوام متحدہ کے حکام نے خواتین کے قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنے پر پابندی کے حالیہ حکم نامے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو این حکام کا کہنا تھا کہ تقریباً 25 ملین افغان باشندوں کی زندگی کا انحصار بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد پر ہے۔اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ یو این کے سیکرٹری جنرل کی نائب امینہ محمد، اقوام متحدہ کی خواتین کی ایجنسی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث اور سیاسی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ، امن سازی اور امن مشنز آپریشنزکےڈائریکٹر خالد الخیاری اور دیگر حکام نے افغانستان کا چار روزہ دورہ کیا۔ انہوں نے افغان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور طالبان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین پر عائد پابندی ختم کریں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان نے حال ہی میں ملک بھر میں طالبات کے لیے یونیورسٹیوں کو اگلے نوٹس تک بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد لڑکیوں کو سیکنڈری اسکولوں میں جانے سے روک دیا گیا لڑکیوں اور خواتین کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ بیشتر شعبوں میں خواتین ملازمین کو نکال دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد نے کہا کہ ان کا پیغام بہت واضح ہےکیونکہ یہ پابندیاں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی کمیونٹیز کو ان کی بنیادی خدمات سےمحروم کردیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اس وقت ایک ایسے خوفناک انسانی بحران کی روشنی میں خود کو الگ تھلگ کر رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔















