اسلام آباد(اےبی این نیوز)2004میں مشرف کی فسطائیت کادورتھا۔ ہمیں ن لیگ کےدفترکیلئےجگہ نہیں ملی تواپناگھرپارٹی کودےدیا۔ 2015میں سی ڈی اے نےرہائشی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پرپابندی لگائی۔ اپنی حکومت ہونے کے باوجود سی ڈی اے نے ہمیں دفتر ختم کرنے کا نوٹس دیا۔
مزید پڑھیں :دبئی لیکس سے توجہ ہٹانے کیلئے مرکزی دفتر پر کارروائی کی گئی، عدالت سے رجوع کریں گے، بیرسٹر گوہر
ن لیگ نےبھی اسلام آبادکےرہائشی علاقےمیں اپنادفتربندکردیاتھا۔ ہم نے نوٹس ملنے کے بعد پارٹی کا مرکزی سیکریٹریٹ بند کیا ۔ مسلم لیگ ن نےمشکلات کےباوجودجدوجہدجاری رکھی۔
نوازشریف کی ہدایت پراپناسیاسی دفترچک شہزادمنتقل کیا۔طارق فضل چودھری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ میڈیا پر آکر جھوٹ بولا جارہا ہے کہ بغیر نوٹس مرکزی دفتر سیل کیا گیا۔
پہلا نوٹس پی ٹی آئی کو 2020میں جاری ہوا تھا۔
مزید پڑھیں :راولپنڈی ،اسلام آباد میں تند و تیزہوا، شدیدآندھی باد وباراں
سی ڈی اے نے پی ٹی آئی دور حکومت میں دوسرا نوٹس فروری 2021میں بھیجا۔ میڈیا پر آکر جھوٹ بولا جارہا ہے کہ بغیر نوٹس مرکزی دفتر سیل کیا گیا۔ پہلا نوٹس پی ٹی آئی کو 2020میں جاری ہوا تھا۔
سی ڈی اے نے پی ٹی آئی دور حکومت میں دوسرا نوٹس فروری 2021میں بھیجا۔ 2015میں سی ڈی اے نے رہائشی سیکٹرز سے تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی۔
مزید پڑھیں :ہیٹ ویو 30 مئی تک برقرار، جون اس سے زیادہ گرم ہوگا،محکمہ موسمیات، الرٹ جاری
ہم نے سی ڈی اے کے نوٹس کے بعد دفتر کو بند کیا۔نواشریف کی ہدایت پر اپنا سیاسی دفتر چک شہزاد منتقل کیا۔ آج شور مچایا ہوا ہے پی ٹی آئی لیڈر کہہ رہے غزہ طرز پر آپریشن ہوگیا۔















