اہم خبریں

کپتان کی قومی اسمبلی میں واپسی روکنے کیلئے نئی حکومتی حکمت عملی تیار

اسلام آباد(نیوزڈیسک) صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان پارلیمانی جنگ میں مزید تیز ی آگئی ۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم حکومت نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے مزید استعفے منظور کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔پی ٹی آئی کی پارلیمانی نے ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد پہنچنے ہدایت کردی تو دوسری طرف سے مزید استعفے منظور کئے جانے کا عندیہ دیدیا۔

اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی دونوں جانب سے تند و تیز بیانات کے دوران پارلیمانی میدان میں بھی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے 35 استعفوں کی منظوری کے بعد باقی بچ جانے والے ارکان کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے ٹکٹیں بھی بک کروا لی گئی۔تازہ پیش رفت کے بعد پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس اب جمعہ یا ہفتے کو طلب کئے جانے کا قوی امکان ہے،

جس میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان میں سے پارلیمانی لیڈر کے انتخاب، چیف وہپ سمیت دیگر عہدوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جلد ہی قائد حزب اختلاف کا عہدہ لینے کے لیے باضابطہ درخواست دے گی۔ اس سلسلے میں اسد عمر کو بڑی ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے باقی ارکان کے اسمبلی میں واپس جانے کے تناظر میں حکومت نے مزید استعفے منظور کرنے کا منصوبہ بنالیا۔اُدھر پی ٹی آئی کی جانب سے قائد حزب اختلاف، پارلیمانی لیڈر اور پی اے سی کے سربراہان کے نام شارٹ لسٹ کرلیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فخر امام، ریاض فتیانہ اور منزہ حسن کے ناموں پر حتمی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اپوزیشن لیڈر، پارلیمانی لیڈر اور چیف وہپ کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔

متعلقہ خبریں