اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل سینسس کوآرٹینیشن سینٹر (N3C)، پاکستان ادارہ شماریات ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر PD&SI نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مردم شماری کی ٹائم لائنز پر عمل کرنے اور قابل اعتماد، اور شفاف مردم شماری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے فیصلوں کے مطابق، پاکستان ادارہ شماریات ،پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کرانے کے لیےاور بروقت چیلنجنگ ٹائم لائنز کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس 17 جنوری 2023 کو سہ پہر 3.30 بجے قومی مردم شماری رابطہ مرکز (N3C) میں وفاقی وزیر PD&SI پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔13 جنوری 2022 کو منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے 49ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق مردم شماری کی نگرانی کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی تھی تاکہ مردم شماری کے عمل کو تیز، شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے اراکین اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ جن میں چیف سیکرٹریز، متعلقہ سیکرٹریز، ڈی جی ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، ایس ایم بی آر، اور محکمہ تعلیم، نادرا وغیرہ کے سینئر افسران شامل تھے۔ میٹنگ کا بنیادی مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کو 7ویں خانہ و مردم شماری کے حوالے سے پیش رفت اورجاری سرگرمیوں کے بارے میں اپ ڈیٹ کرنا، برف باری والے علاقوں میں مردم شماری کے طریقہ کار سے متعلق فیصلے اور مردم شماری کی ٹائم لائنز کے ساتھ قومی تقریبات کا اوور لیپ کرنا تھا۔ چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹرنعیم الظفر، (پی بی ایس) نے 7ویں خانہ و مردم شماری سے متعلق سرگرمیوں میں پیشرفت کی تفصیلات پیش کیں۔انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے 495 امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ صوبوں نے مردم شماری کے لئے 120,000 فیلڈ سٹاف فراہم کیا ہے۔ پائلٹ مردم شماری 33 اضلاع میں کامیابی کے ساتھ کی جا چکی ہے۔ 125,500 ٹیبلٹس کو تیار کیا گیا اور 495 مردم شماری سپورٹ سینٹر کو پہنچایا گیا۔7 جنوری 2023 سے 992 مقامات پر 121,000 فیلڈ اسٹاف کی تربیت جاری ہے۔ تاہم تمام صوبوں بالخصوص سندھ اور پنجاب میں حاضری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نادرا نے مطلع کیا ہے کہ سیکیورٹی آڈٹ سمیت تمام تقاضے جلد ہی مکمل کر لیے جائیں گے اور سیکیورٹی آڈٹ کے بعد این ٹی سی کی جانب سے مطلوبہ بیک اینڈ انفراسٹرکچر کی فراہمی پر انحصار کرتے ہوئے خود شماری شروع کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد، ٹائم لائنزپر نظر ثانی ، قومی تقریبات کو مردم شماری کی ٹائم لائنز کے ساتھ اوورلیپ کرنے اور سیکورٹی کے مسائل کو بھی زیربحث لایا گیا۔ شدید سرد موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے برفباری والے علاقوں میں مردم شماری کے فیلڈ آپریشن کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے انعقاد کے موقع پر یادگار پوسٹل ٹکٹ کے اجراءپر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر نعیم نے چیئرپرسن سے مزید درخواست کی کہ مردم شماری فیڈریشن کو مضبوط کرنے کی مشق ہے اس لیے خود شماری پورٹل کا اجراءاور فیلڈ اینومریشن کا آغاز قومی سالمیت کو بڑھانے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، خود شماری اور فیلڈ میں شماری کا افتتاح وفاقی سطح پر صدر یا وزیر اعظم اور صوبائی انتظامیہ کو ان کی اپنی سطح پر کرنا چاہیے۔ پروفیسر احسن اقبال وزیربرائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے مردم شماری کے عمل کی صداقت پر زور دیا جو کہ ایک بہت بڑی قومی مشق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائم لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ مردم شماری شفاف ہونی چاہیے اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے اسے کامیاب بنایا جائے گا۔ صوبوں کو آن بورڈ ہونا چاہیے اور کسی بھی تنازعہ سے بچنے کے لئے تمام معاملات پر اتفاق رائے ہونا چاہیے تاکہ و سائل کا موثرطورپر استعمال کیا جا سکے۔ پورے عمل میں یکسانیت اور مستقل مزاجی لانے کے لیے تمام صوبوں میں معیاری SOPs پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبوں سے کہا کہ وہ شماری کے عمل کے لیے تدریسی عملے کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور سیکیورٹی کے عملے کو بھی اور اپنے سیکیورٹی پلانز کو جلد از جلد ایک دوسرے سےشیئر کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے نادرا پر زور دیا کہ سافٹ ویئر کے تمام اپلیکیشن کے مہیا کردہ ماڈیولز اپ ٹو مارک ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مستقل مزاجی اور معیار کی جانچ پر سختی سےعمل درآمد کرنے کو یقینی بنانے کو کہا۔ محمد سرور گوندل، ممبر (RM/SS) نے بتایا کہ مردم شماری کا بنیادی مقصد منصوبہ بندی اور پالیسی سازی ہے اور یہ مردم شماری اقوام متحدہ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اور اسٹیک ہولڈرز کے تمام خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، اس لیے یہ یقینی طور پر اپنے مقاصد پورا کرے گی۔اس کے بعد، دیگر محکموں کے اراکین نے اپنا نقطہ نظرپیش کیا۔ تمام صوبوں نے قومی سرگرمی کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وفاقی وزیربرائے( PD&SI) نے عمل میں شفافیت اور رازداری کے لیے پاکستان ادارہ شماریات کی کوششوں کو سراہا اور عام انتخابات 2023 کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ڈیٹا کی فراہمی کے لیے ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی۔















