کراچی( نیوز ڈیسک )سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد کے 16 اضلاع میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔کراچی میں لیاری، بلدیہ اور ابراہیم حیدری ٹاؤن کی 10 نشتوں پر پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے جبکہ گلشن اقبال اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں جماعت اسلامی آگے ہے۔ ضلع جنوبی میں 25 یوسیز میں سے 1 پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وائس چیئرمین کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔ضلع ملیر کی 30 میں سے 3 یونین کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کامیاب ہوگئے۔سیہون میونسپل کمیٹی کے تمام 15 وارڈز پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی۔حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کو ضلع کی 160 میں سے 38 یوسیز پرمیدان مار لیا ہے جبکہ دادومیونسپل کمیٹی کے 24 وارڈز میں سے پی پی پی کے 18، پی ٹی آئی کے 3 اميدوار اور 2 آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ ایک امیدوار کے انتقال پر انتخابات روک دیے گئے۔مٹیاری کے ٹاؤن کمیٹی کے 7 وارڈ میں سے جی ڈی اے 4 پر اور پیپلز پارٹی 3 پر کامیاب ہوئی،الیکشن کے بار بار التوا اور آخری وقت تک غیریقینی صورتحال کے باعث توقع کے مطابق ٹرن آؤٹ کم رہا اور صبح سے دوپہر تک بہت کم لوگ ووٹ کاسٹ کرنے باہر نکلے۔ تاہم حسب معمول شام کو کچھ رش دیکھنے میں آیا، اگرچہ وہ بھی معمول سے کم تھا۔چنیسر گوٹھ پولنگ اسٹیشن میں جھگڑا ہوا جس کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر جماعت اسلامی کے کونسلر کے امیدوار پر تشدد کیا۔گلشن معمار میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس نے ایم این اے شاہدہ رحمانی کے بیٹے ہلال رحمانی پر تشدد کے الزام میں تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی رابستان خان کو حراست میں لے لیا۔اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگائے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی سامنے آئیں۔وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں بدترین دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے بعد جو بیلٹ پیپرز چوری ہوئے وہ آج ڈالے جائیں گے، سعود آباد ، ملیر ، لانڈھی اور کورنگی میں اتوار کی صبح نامعلوم شرپسندوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپس کو آگ لگا دی، ان بلدیاتی الیکشن میں 30 نشستوں پر پولنگ نہیں ہوئی،کراچی کے 7 اضلاع میں 23 امیدواروں کے انتقال اور 6 امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کی وجہ سے چیئرمین وائس چیئرمین اور وارڈ ممبر کی 1230 میں سے 1200 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ حیدرآباد ڈویژن میں 410 اور ٹھٹھہ ڈویژن میں بھی 310 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں اور 27 امیدواروں کا انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع میں 1675 اور ٹھٹھہ ڈویژن کے اضلاع میں تمام کیٹگریز کی 709 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، مجموعی طور پر 17862 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جن میں سے 9057 امیدواروں کا تعلق کراچی، 6228 حیدرآباد اور 2577 کا تعلق ٹھٹھہ ڈویژن سے ہے۔حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جن کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔















