اہم خبریں

عالمی منڈی میں خام تیل پھر مہنگا ہو گیا

نیویارک(اے بی این نیوز) ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات احتجاجاً معطل کرنے اور آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی راستوں کی ممکنہ بندش کے خدشات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل پھر مہنگا ہو گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کی معطلی کی خبریں سامنے آنے کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ، تہران کے مذاکرات معطلی کے فیصلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں تیزی آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل تقریباً 6 فیصد اضافے کے ساتھ 97.02 سے 97.14 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 7 فیصد سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 93.93 سے 94.04 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔

واضح رہے کہ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل فورسز کی جانب سے لبنان اور غزہ میں کارروائیوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث ایرانی مذاکراتی ٹیم نے ثالثوں کے ذریعے ہونے والے رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کو بھی روک دیا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق مذاکرات کی معطلی کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید کمزور ہو گئی ہے ،اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے خام تیل کی خریداری بڑھا دی۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ مئی میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے نرخوں میں بالترتیب تقریباً 19 اور 17 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی جو مارچ 2020 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ تھی تاہم حالیہ صورت حال کے باعث قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ خطے کی سیاسی صورت حال سے براہ راست جڑا ہوا ہے جب کہ سپلائی سائیڈ خطرات نے موجودہ صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں استحکام کے باوجود تیل کی قیمتیں جغرافیائی کشیدگی کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید برآں روس، سعودی عرب، قازقستان اور دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار اور برآمدی پالیسیوں سے بھی عالمی منڈی متاثر ہو رہی ہے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کسی بھی مزید کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

مزید پڑھیں۔اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات پر بڑی پیش رفت سامنے آگئی

متعلقہ خبریں