اہم خبریں

ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام کروانا نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے،وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام کروانا نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایم اے پاس سے سوئیپر کا کام کروانے پر نظام کو شاباش دینی چاہیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میں ایم اے پاس کو سوئیپر رکھنے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ “کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟” دس سال بعد کسی ملازم کو نوکری سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہو گا، اس لیے صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ پر ملازمت فراہم کرے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں سوئیپر کی کوئی خالی آسامی موجود نہیں ہے۔ اس پر جسٹس رضوی نے استفسار کیا، “کیا خیبر پختونخوا اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ اب سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں رہی؟”صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا۔”

عدالت میں موجود ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے پوچھا گیا کہ متعلقہ ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ اس کی ذمہ داریوں میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا شامل ہے۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “کیا اس کے جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی؟ ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام کروانا نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔” ایم اے پاس سے سوئیپر کا کام کروانے پر نظام کو شاباش دینی چاہیے۔

سماعت کے اختتام پر وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا آغاز

متعلقہ خبریں