اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 770 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تازہ تحقیق کے مطابق ملک میں 1990 میں گاڑیوں کی تعداد 44 لاکھ 70 ہزار تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 3 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ اس دوران ٹرانسپورٹ کے شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی بڑے شہروں میں صحتِ عامہ کے لیے سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 1990 میں ایک کروڑ 38 لاکھ ٹن تھا، جو 2023 میں بڑھ کر 4 کروڑ 36 لاکھ ٹن ہو گیا۔ لاہور میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 81.3 فیصد بتایا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 33 فیصد، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 53 فیصد جبکہ پشاور میں 51 فیصد ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث پاکستان میں متوقع اوسط عمر میں تقریباً 7 سال تک کمی کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ایندھن کے استعمال اور ٹریفک کے دباؤ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
فضائی آلودگی میں کمی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا، ماحول دوست گاڑیوں کا استعمال بڑھانا اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی مؤثر نگرانی اہم اقدامات قرار دیے جاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں: بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے آفیشل ایکس اکائونٹ سے اظہار لاتعلقی















