اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جاری تحریری فیصلہ کے مطابق وزارت قانون نے 3 اکتوبر 2023 کو مرکزی ملزم کی حدر تک سائفر کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا،وزارت قانون کے 3 اکتوبر کو جاری کیے گئے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن میں شاہ محمود قریشی کا نام موجود نہیں تھا،اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار نے ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کی،شاہ محمود قریشی کیساتھ ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی بھی مقدمے کے ملزمان میں شامل ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو لاحق سکیورٹی خدشات کے باعث سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں کیا جا رہا ہے،سی آر پی سی کی سیکشن 239 کے مطابق ایک ہی کیس کا دو جگہ ٹرائل نہیں چلایا جا سکتا،لحاظہ چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کے باعث شاہ محمود قریشی کا ٹرائل بھی جیل میں ہی ہوگا،بظاہر 3 اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں درخواست گزار کا نام شامل نہ ہونا ایک انتظامی غلطی لگتی ہے،یہی وجہ ہے کہ وزارت قانون کی ظرف سے 13 اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں اس غلطی کا ازالہ کیا گیا ہے،یہ انتظامی غلطی 13 اکتوبر کے نوٹیفکیشن سے پہلے عدالتی کارروائی کو اثر انداز نہیں کرتی،یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جیل ٹرائل کا مطلب ان کیمرہ ٹرائل نہیں ہے،جیل ٹرائل صرف اور صرف چیئرمین پی ٹی آئی کو لاحق سکیورٹی خدشات کے باعث عمل میں لایا جا رہا ہے،درخواست گزار وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پنجرے میں رکھا گیا ہے،درخواست گزار وکیل کے مطابق سائفر کیس کی سماعت کیلئے کمرے میں وکلاء کے بیٹھنے تک کی جگہ نہیں،انسان کی عزت نفس اس کا بنیادی حق ہے، ٹرائل اور الزامات کا سامنا کرنے کا مطلب جرم کا ارتکاب نہیں،اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں انسانی عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھ کر کہا گیا ہے کہ عدالت لاتے وقت ہتھکڑیاں نہ لگائی جائے،جیل سپرٹنڈنٹ یقینی بنائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی عزت نفس مجروح نہ کی جائے گی،جیل سپرٹنڈنٹ یقینی بنائیں کہ ٹرائل کا انعقاد اس کمرے میں ہو جس میں مناسب جگہ ہو،جیل حکام اور متعلقہ حکومت زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹرائل سننے اور دیکھنے کا موقع فراہم کرے،شاہ محمود قریشی کی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست نمٹائیدی گئی۔















