کراچی( اے بی این نیوز ) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قبلہ اول کے محافظوں نے اسرائیل میں گھس کر عظٰیم مزاحمت پر سلامپیش کرتے ہیں۔سوئی ہوئی امت کو جگانے والوں کو زبردست مزاحمت پر سلام پیش کرتے ہیں۔مجاہدین نے قابضوں اور ظالموں کو یہ سبق پڑھادیا ہے کہ زبردستی قبضہ کسی صورت جاری نہیں رہ سکتا۔پورے پاکستان کے عوام بجلی ، پیٹرول قیمتوں اور مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں۔سیاسی پارٹیوں میں کوئی بھی عوام کے لیے اٹھنے کو تیار نہیں ہے۔تمام پارٹیاں آپس میں سر جوڑے بیٹھی ہوئی ہیں کہ اگلی باری کس کو دینی چاہیئے ۔چترال کے پہاڑوں سے لے کر کراچی کے سمندر رتک امیرجماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر احتجاج جاری ہیں۔ پر امن اور پیہم مزاحمت ہی مسائل کے حل کا راستہ نکال سکتی ہے۔ حماس کے مجاہدین نے بتادیا کہ سیاسی مزاحمت اور بندوق کے ذریعے سے بھی مزاحمت کی جاسکتی ہے۔وہ گورنر ہاؤس سندھ پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کر ہے تھے انہوں نے کہا کہ ملک پر 76 سال سے آمروں اور ڈکٹیروں اور نام نہاد جمہوری صورت پر حکمران طبقہ مسلط ہے ۔مراعات طبقہ وہ ہے جو امریکہ کی پشت پناہی اور ان کی خوشنودی کے ذریعے ہم پر حکمرانی کرتے ہیں۔یہ وہی حکمران ہیں جو ہمیں آئی ایم ایف کے سبق پڑھاتے ہیں اور خود عیاشیاں کرتے ہیں۔ ہمیں ان حکمرانوں کے خلاف پر امن مزاحمت کریں گے جنہوں نے عوام کی زندگی مشکل کردی ہے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر تنخواہ دار لوگوں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جاگیرداروں اور وڈٰیروں پر تیکس نہیں لگایا جاتا۔جاگیردار اور وڈیرے سندھیوں اور ہاریوں کا گلہ دبا کر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ورلڈ بنک کا نظام نہیں چلے گا اور آئی ایم کی غلامی نہیں چلے گی۔ اسرائیل میں صیہونی آبادکاروں نے زبردستی تسلط قائم کیا ہوا ہے۔صیہونی احسان فراموش ہیں ، ان سے قبضہ فرانس اور امریکہ نے کروایا۔صیہونیت یہ ہے کہ دوسرے مذہب کا قتل کیا جائے۔ صیہونینت کے مقابلے میں حماس کے مجاہدین جدوجہد کررہے ہیں۔ صیہونی سامراجی ذہن ہے جس کی پشتبانی امریکہ کررہا ہے۔پاکستان میں ہم صیہونیوں کے آلہ کار سے مزاحمت کررہے ہیں۔پاکستان میں موجود اسرائیل کو قبول کرنے والے موجود ہیں۔اسرائیل کے ناپاک وجود کو ہم کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔ہم کوئی دو ریاستی حل قبول نہیں ، ریاست صرف آزاد فلسطین کے نام سے ہی ہوگی۔اسرائیل اپنے ساتھ امریکہ اور فرانس کی افواج کے ساتھ مل کر حماس کےک مجاہدین پر حملہ آور ہے۔حماس کے مجاہدین اللہ کی مدد کے ساتھ اسرائیل کی افواج کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ 23مارچ 1940 کی قراداد میں اسرائیل کو قبول نہ کرنے اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی شامل تھی۔مغرب کے لوگوں نے جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق قابض بندوق اہلکاروں کے خلاف اور اسلامی شرعیت کے مطابق جہاد کرنا جائز ہے۔ ہمیں پیٹ کی آنکھ میں الجھایا جاتاہے ، آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔حکمران ٹولہ مغرب کا دلدادہ ہوتا ہے اور ان سے ملا ہوا ہے۔ہم عوام متحد ہوں گے اور اب حکمران کو تقسیم کریں گے۔پیٹ کی آنکھ میں جلا کر عوام کو تقسیم نہیں کرسکتے۔ آئی پی پیز کے معاہدے ختم کیے جائیں، آئی پی پیز سے معاہدے ظلم پر مبنی ہے۔ 9ہزار میگاواٹ بجلی ہم استعمال نہیں کرتے ہیں لیکن ان کے پیسے ادا کیے جاتے ہیں۔آئی پی پیز میں ایک کمپنی نے سالانہ 28 ارب روپے کمائے جب کہ وہ کمپنی ہی بند ہے۔گورنر ہاؤس کے الیکٹرک کی سہولت کاری کرتا ہے لیکن عوام کی ترجمانی نہیں کرتا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرول،بجلی کی قیمتیں کم کی جائے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم کی جائیں۔میرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی ساتھ مشاورت کریں گے اور طے کریں گے کہ دھرنا کتنے دن کے لیے کرنا ہے۔جماعت اسلامی کے عبد الاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں کراچی کی گنتی پر آواز اٹھائی ، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے وڈیروں کے ہاتھوں کراچی کی گنتی کم کردی۔کراچی کے عوام مسلم لیگ ن ، پیپپلزپارٹٰی اور ایم کیو ایم سے قومی انتخابات سے اپنا انتقام لیں گے۔ کراچی بیدار ہوچکا ہے اور اب تحریک مزید آگے بھڑے گی ۔جماعت اسلامی کے کونسلر محمد حبیب شہید کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ہم حماس کے مجاہدین کی پشت پر اہل کراچی سمیت پورے ملک کو کھڑا کریں گے۔















