اسلام آباد(اے بی این نیوز )سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے دو سال مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، شوکت مقدم نے خطاب کرتےہوئے سپریم کورٹ سے نور مقدم کیس کا جلد فیصلہ کرنے کی استدعا کردی ،دو سال ہو گئے نور مقدم کو 20 جولائی کو بہیمانہ قتل کیا گیا ،یہ دو سال ہمارے لئے بہت مشکل تھے ،لیکن اللہ کا شکر ہے مرکزی مجرم کو پہلے سزائے موت سیشن کورٹ سے ہوئی ،مرکزی مجرم کو ہائیکورٹ نے دو دفعہ سزائے موت کا حکم دیا ،اب مجرم کی جانب سے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ،سپریم کورٹ سے استدعا ہے اس کیس کو جلد سن کر فیصلہ کیا جائے ،یہ کیس مفاد عامہ کا کیس ہے ،
نور مقدم کے کیس کے بعد پاکستان کی لڑکیوں کو خوف ہے ،یہ صرف نور مقدم کا کیس نہیں بلکہ ساری پاکستان کا کیس ہے ،پچاس فیصد ملک کی آزادی خوف میں زندگی نہیں گزار سکتی ،ہمیں اس کیس کو اکٹھے ہوکر لڑنا ہے ،خواتین کو مردوں کے ساتھ ملکر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرنی ہے ،نور مقدم یتیموں کے لئے تحفے لیکر جاتی تھی ،نور مقدم نے 27 سال کی عمر میں سورہ ملک یاد کر لی تھی ،نور مقدم کسی سہیلی کے گھر جاتی تو نماز کو مقدم رکھتی،شوکت مقدم گفتگو کرتے آبدیدہ ہو گئے ،پاکستان اور پوری دنیا جسٹس فار نور کی آواز اٹھائے۔















