اسلام آباد (اے بی این نیوز )پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیو یارک میں پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل سے متعلق بریفنگ طلب کر لی جبکہ کئی مہینوں تک ڈی اے سیز نہ کرنے پر وزارت ایوی ایشن پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور معاملے سے متعلق وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے،کمیٹی نے سینئر سیاستدان ندیم افضل چن کے والد کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت پنجاب سے رپورٹ بھی طلب کرلی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ایوی ایوی ایشن ڈویژن سے متعلق سال 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیا جانا تھا تاہم کئی مہینے ڈی اے سی نہ ہونے پر کمیٹی نے برہمی کااظہار کیا اور ایوی ایشن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینے سے انکار کردیا ،نور عالم خان کا کہنا تھا کہ میں بحیثیت چیئرمین پی اے سی 20 ہزار مہینے کے لیتاہوں اس کو حلال کروں گا،آپ لوگ کیوں کام نہیں کرتے۔۔۔نور عالم خان نے کہا کہ پرسوں نیب سے متعلق کمیٹی کی میٹنگ ہے،چیئرمیں نیب اچھے ادارے سے آئے ہیں، میں چاہتا ہوں وہ اپنے ہاؤس کو دیکھیں،ہم احتساب چاہتے ہیں جس نے کرپشن کی ہو اسے کوئی فیور نہیں دی جائے،نیب کو جو کیسز دیئے ہیں تین تین سالوں سے پڑے ہوئے ہیں،جو افسران کام نہیں کر رہے ان کو فارغ کیا جائے۔۔ نور عالم خان نے کہا کہ پنجاب پولیس نے پرسوں سینیئر سیاست دان افضل چن کو گرفتار کیا،جب ایک بندہ سیاست میں نہیں، اینٹی اسٹیٹ نہیں ہے، ان کو گرفتار کیا گیا،جب وہ کسی چیز میں ملوث نہیں ہے، ان کی توہین کی گئی، بیٹے اگر سیاست میں ہیں اور انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہو تو انہیں گرفتار کیا جائے، چیف سیکرٹری پنجاب آئی جی پنجاب اور سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ کر پوچھا جائے، ہمیں تین دن میں رپورٹ دیں ان پر کون سے الزامات تھے؟بے گناہ لوگوں کو نہ پکڑا جائے۔















