سکردو( اے بی این نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد ہم نہیں پی ٹی آئی کے اپنے لوگ لارہے ہیں ہم مرکزی لیڈر شپ کے فیصلے کے پابند ہیں حافظ حفیظ الرحمن مولانا عطاءاللہ شہاب یا میں اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ہم ووٹر ہیں مرکزی لیڈر شپ وزارت اعلی کیلئے جسے کہے گی ووٹ دیں گے مگر ہم یہ واضح کردیں گے کہ ہم اس وقت گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں ہم بس صرف یہ چاہتے ہیں کہ خالد خورشید وزارت اعلی سے ہٹیں کیونکہ یہ ریاست مخالف بیانیے کو سپورٹ کررہے ہیں قومی بجٹ ریاست مخالف سرگرمیوں پر خرچ کر رہے ہیں ہم وفاق سے منت سماجت کرکے بجٹ لاتے ہیں اور خالد خورشید مانگ تانگ کر ملنے والا بجٹ عمران خان کی حفاظت کیلئے خرچ کر رہے ہیں اب تک عمران خان کے کیس لڑنے والے وکیلوں کی فیس کی مدمیں ہمارے بجٹ سے کروڑوں روپے اڑائے گئے ہیں سکردو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں گندم بحران سنگین ہوتا جارہا ہے بلتستان کے لوگ گندم کے ساتھ پانی اور بجلی کیلئے بھی ترس رہے ہیں یہاں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسائل اور بھی سنگین ہوگئے ہیں گندم نہیں ہے مگر حکومتی لوگ اپنی تنخواہیں بڑھا رہے ہیں تنخواہیں کم کرکے کوآرڈینیٹرز کی تعداد کم کرکے یا تقرریوں کے سلسلے کو روک کر گندم کیوں نہیں لائی جاتی گندم بحران کو ختم کرنا حکومت کا ایجنڈا نہیں ہے ورنہ گندم لانا کوئی بڑی بات نہیں ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعلی خالد خورشید اس وقت اپنے لئے محفوظ راستہ مانگ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز ختم کئے جائیں اور انہیں باہر جانے کی اجازت دیدی جائے اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے وزیراعلی وزرائ سے مختلف غیر قانونی سمریز پر دستخط لے رہے ہیں اور تمام حکومتی لوگ جرم میں شریک ہورہے ہیں وزرا ناکردہ گناہ کی سزائیں بھگتیں گے وزیراعلی سیاست کیلئے ریاست کو داو ¿ پر لگا رہے ہیں















