اسلام آباد (اے بی این نیوز )سی ڈی اے ، ایم سی آئی سینیٹیشن کے ٹھیکے میں 20 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف،ایف آئی اے کا 7 افسران اور ٹھکیدار کے خلاف مقدمہ درج،ایف آئی آر کے مطابق سیںٹیشن ڈیپارٹمنٹ کے سات آفسران نے ملی بھگت سے کنٹریکٹر انس برادرز کو مشینری اور رجسٹریشن نا ہونے کے باوجود ٹھیکہ ایوارڈ کیا ٹھیکے کے ایوارڈ سے قبل سب کمیٹیوں کو تمام مشینری ، رجسٹریشن کی تصدیق کا کام سونپا گیا سب کمیٹی کی رپورٹس منفی ہونے کے باوجود متعلقہ ٹھیکہ ایوارڈ کیا گیا سب کمیٹی کی رپورٹس کو ریکارڈ سے غائب کردیا گیا متعلقہ سب کمٹیوں کے ممبران نے اپنی رپورٹس تحقیقات کے دوران ایف آئی اے کو بطور ثبوت پیش کردیں ایف آئی آر میں کئی افسران نامزد کردیئے گئے ڈی جی خلیل احمد سومرو ، ڈائریکٹر لاء عمر صغیر ، ڈائریکٹر سینیٹیشن سردار خان زمری کے نام شامل آڈٹ آفیسر چوہدری بشیر احمد ، پی ڈی قاضی عمر ، ڈپٹی ڈائریکٹر سینیٹیشن قاضی صلاح الدین ، اسٹنٹ ڈائریکٹر شبیر حسین کا بھی غیر قانونی اور ملی بھگت سے ٹھیکہ انس برادرز کو ایوارڈ کیا مقدمہ میں ٹھیکیدار وسیم شہزاد اور عثمان صفدر کو بھی بطور ملزم بتایا گیا ہے ،تفتیشی افسر افسر نے بتایا کہ مقدمے کی مزید تحقیقات کے لیے کسی بھی آفیسر کو بلایا جا سکتا ہے، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ 30 مئی کو درج کیا تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تاحال سی ڈی اے کی جانب سے متعلقہ افسران کو معطل بھی نہیں کیا گیا















