اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پاکستان مضبوط اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات استوار کر کے بیلاروس کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط اور دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بیلاروس کے ہم منصب سے نتیجہ خیز اور تعمیری ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے تمام شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔بیلاروس کے ساتھ تعلقات کے لیے ہمارے طویل المدتی اہداف میں اقتصادی تعلقات کی مضبوطی، تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینا، سائنسی تعاون کو فروغ دینا ہے ۔بیلا رس کے ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانا اور ثقافتی اور عوام سے عوام کے روابط کو گہرا کرنا شامل ہے۔ ان خیلات کا اظہار وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بیلاروس کے وزیر خارجہ سرگئی ایلینک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی طور پر مفید تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جو دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود میں کردار ادا کرسکے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اچھے تعلقات کو ٹھوس تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس دورے کا ایک اہم نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے ویزوں کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا جس سے اعلیٰ سطح کے دوروں کو فروغ ملے گا۔ اسلام آباد سٹریٹجک انسٹیٹیوٹ اور بیلاروس انسٹیٹیوٹ کے درمیان معاہدہ تعلیمی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھے گا۔ چھٹے وزارتی اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کو مزید آگے بڑھائیں گے۔سال 2024 میں دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 30 ویں سالگرہ منائیں گے۔پاکستان اور بیلاروس کے درمیان باہمی فائدہ مند دوستی کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔بیلاروس کے وزیر خارجہ سرگئی ایلینک نے کہا کہ پاکستان کے دورے کی دعوت پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، انتہائی تعمیری اور بے تکلفانہ انداز میں ملاقات کی جس میں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید استوار کرنے پر اتفاق کیا۔جغرافیائی اور عالمی تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کی یہ خواہش ہے کہ وہ باہمی طور پر مفید تعلقات کو استوار کریں۔ پاکستان میں گاڑیاں اور ٹریکٹر بنانے کی فیکٹری لگا کر مزید سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنا بیلاروس کی حکومت کی مستقل پالیسی رہی ہے۔دونوں ممالک کی قیادت نے مزید پروان چڑھایا ہے۔ بیلاروس مختلف دبائو کے باوجود اپنی خودمختاری اور خارجہ پالیسی کی آزادی کا دفاع کررہا ہے اور خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا مخالف ہے۔















