اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی اصلاحات ، احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ جو قوم کا پیسہ لوٹتے ہیں ان کیلئے زیرو ٹالرینس رویہ اپنایا جائے گا ،ہمارا مذہب کہتا ہےاحتساب جبر کے طور پر استعمال نا ہو اور نا بیگناہ لوگوں کو پھنسایا جائے،احتساب کا مقصد لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہےہم نے تہیہ کر لیا ہے معصوم لوگوں کو ایسے کیسوں میں نہیں پھنسانا چاہتے۔باہر کے ملک نے پیسہ دیا جب کہ ہمارے لوگوں نے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک دی ،دو دسمبر 2019 کو کابینہ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ احمد علی ریاض فیملی اینڈ میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ دینے کی اپروول دی گئی ہے اکثر وزرا اس کابینہ میٹنگ میں تھے ہمارے پاس پوری لسٹ ہے اور شہزاد اکبر نے اس تحریک کوپیش کیا تھا اورکن کن معاملات میں عدالتیں اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر رہی ہیں اس کو ہمیں دیکھنا ہو گا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی اصلاحات ، احتساب عرفان قادر نے القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے کہا ہے کہ دو دسمبر 2019 کو کابینہ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ احمد علی ریاض اینڈ فیملی اینڈ میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ دینے کی اپروول دی گئی ہے،سابق وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ادھر قانونی موشگافیوں میں کافی پیسہ لگتا ہم پوچھتے ہیں کہ پیسہ پاکستان کو مل گیا اس میں کیاقانونی موشگافیاں تھیں؟یہ بہت سادہ سا کیس ہے مگر اسے الجھایا جا رہا ہے،اپریل 2019 میں 458 کنال لینڈ جس کی مالیت چوبیس کروڑ تھی وہ دی گئی،کل ڈونیشن کا حجم 80 کروڑ تھا اگر اس میں 60 سے 70 ارب کا فائدہ ہوجائے تو اس سے اچھا سودا کیا ہوگا۔اس کیس میں عمران خان، بشری بیگم، فرح خان، ذولفی بخاری اور دیگر کا نام آتا ہے،ججز بھی پبلک سرونٹ ہیں اگر جج کوئی اوفینس یا کریمنل کام کرتا ہے تو پینل کوڈ میں دیکھا جائے، قانون کا برابر اطلاق ہو اس کیس میں اس وقت کے ججز کو بھی دیکھنا پڑے گا اگر وہ بھی اس میں اعانت کر رہے تھے تو انہیں بھی شامل تفتیش کرناہوگا۔دنیا کی تاریخ میں اس سے بڑی بدعنوانی نہیں ہوئی جو عدالتوں میں چندمنٹ کا کیس ہے،نئے چئیرمین نیب سے پوری امید ہے کہ وہ اس کیس پر ایکشن لیں گے اور شفافیت سے تیزی کیساتھ اس کیس کو انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ پبلک منی تھی، سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ پبلک لوگوں کا تھا ،وزیراعظم متعلقہ وزارتوں سے ڈسکس کریں گے کہ سپریم کورٹ سے پیسے کب کلیم کرنے ہیں امید ہے اس کیس کا فیصلہ جلدی ہوگا اور عوام کا پیسہ ریلیف کی صورت میں عوام کو ملے گا۔















