اسلام آباد(اے بی این نیوز )کینیائی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین نادرا طارق ملک سے سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔ یہ وفد نادرا کی جانب سے کینیا کے نیشنل آئی ڈی پراجیکٹ کے لئے جمع کرائی گئی تجویز کی جانچ پرکھ اور دیگر ضروری کارروائیوں کے سلسلے میں پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے پر آیا ہوا ہے۔ وفد کی قیادت کینیا کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ فار سٹیزن سروسز کے پرنسپل سیکرٹری، ایمبیسڈر پروفیسر جولیس کے بیتوک کر رہے ہیں۔ وفد میں سیکرٹری صاحبان اور ڈائریکٹر صاحبان کے ساتھ ساتھ کینیا کے آئی ڈی ڈپارٹمنٹ کے ٹیکنیکل اینڈ آپریشنز کے شعبوں کے افسران شامل ہیں۔ چیئرمین نادرا طارق ملک نے کینیا کے وفد کو ڈیجیٹل آئی ڈی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت اور بااختیار حیثیت کے علاوہ ای گورنمنٹ کی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ پاکستان بھر میں آئی ڈی رجسٹریشن کی یونیورسل کوریج ایک شاندار کارنامہ ہے جس کی بدولت قومی شناختی کارڈ کے ڈیجیٹل ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی اداروں میں طرزِحکمرانی کی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ بریفنگ کے دوران چیئرمین نادرا نے حکومتِ پاکستان کی “لک افریقہ پالیسی” کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ نادرا، کینیا کی حکومت کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کار کو مزید بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس اشتراک کی بدولت دونوں ملکوں کے درمیان بالخصوص ڈیجیٹل آئی ڈی اور رجسٹریشن کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ طارق ملک نے کینیائی وفد کو اطمینان دلایا کہ نادرا آئی ڈی سے متعلق منصوبوں میں معاونت کے لئے جی ٹو جی سہولیات سے پوری طرح لیس ہے۔ انہوں نے ایک ایسے آئی ڈی ایکوسسٹم کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں تمام درست معلومات ایک جگہ دستیاب ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آئی ڈی کے مضبوط نظام کی بدولت فلاح عامہ کی لاتعداد ڈیجیٹل مصنوعات متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ کینیا کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ فار سٹیزن سروسز کے پرنسپل سیکرٹری ایمبیسڈر پروفیسر جولیس کے بیتوک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اس دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نادرا کے تیار کئے ہوئے آئی ڈی مینجمنٹ سسٹم اور ڈیجیٹل آئی ڈی ایکوسسٹم کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کینیا میں مختلف معلومات اور اعدادوشمار بے ربط ٹکڑوں کی شکل میں کئی مختلف جگہوں پر موجود ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اس میں ربط پیدا کیا جائے اور ایک مرکزی ڈیٹابیس تیار کیا جائے جو درست معلومات کے واحد ذریعہ کا کام دے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمیں نیشنل ڈیجیٹل آئی ڈی سے متعلق اپنے پراجیکٹ میں نادرا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ضرور ملے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نادرا دنیا کے جنوبی حصوں کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی سرگرمیوں کے تحت نائجیریا، سوڈان، کینیا اور صومالیہ کی حکومتوں کو آئی ڈی مینجمنٹ اور سول رجسٹریشن سسٹم کی تیاری میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔کینیا کے وفد نے نادرا ہیڈکوارٹرز میں مختلف شعبوں اور سہولیات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وفد کو بتایا گیا کہ نادرا کے آئی ڈی کارڈ پرنٹنگ، نیٹ ورکس اینڈ کمیونیکیشنز، انفراسٹرکچر اور انفارمیشن سکیورٹی کے شعبے بین الاقوامی سطح پر آئی ایس او 27001 سرٹیفکیشن حاصل کر چکے ہیں جبکہ انفارمیشن سکیورٹی مینجمنٹ سسٹمز دنیا بھر میں انفارمیشن سکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیارات کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔















