اسلام آباد ( اے بی این نیوز )جب بینظیربھٹوکوشہیدکیاگیاتوجیالوں نے خودکوآگ لگائی، وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کاقومی اسمبلی اجلاس میں اظہارخیال،پشاورمیں ریڈیوپاکستان اورپبلک ٹرانسپورٹ کوجلایاگیا،پہلی باردیکھاکورکمانڈرکے گھرحملہ کیاگیا، اگر شہید بینظیر بھٹو کہتی مرتضی کا قاتل اسلام آباد میں بیٹھا ہے ، ہم نے جتنی لاشیں اٹھانی تھیں اٹھائیں، ایک شخص جب خود وزیراعظم تھا نیب کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا تھا، اس کے دور میں ایک سابق وزیراعظم کے سامنے اس کی بیٹی کو گرفتار کیا گیا، شہباز شریف جب اپوزیشن لیڈر تھے تو انہیں گرفتار کر کے عمران خان خوش ہوا تھا، عمران خان اپنے مخالفین کی گرفتاری پر خوش ہوتا تھا اور مزے لیتا تھا، اگر جمہوریت بہترین انتقام نہیں کہتے تو آج پاکستان ہوتا ؟















