اسلام آ باد ( اے بی این نیوز)سی ڈی اے کے زیر اہتمام پہلا اسلام آباد ادبی میلہ 2023اختتام پزیر ہوگیا۔ 15سال بعد شہر میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں شروع کرنے پر شہریوں اور لکھاریوں کا چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن نور الامین مینگل کو خراج تحسین۔ سی ڈی اے کے زیر اہتمام اسلام آباد ادبی میلہ 2023 اختتام پزیر ہوگیا۔ ادبی میلے میں ملک بھر سے آئے ہوئے نامور لکھاریوں، ادب، ثقافت، فنون اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔ ادبی میلہ تین دن تک جاری رہا. جو اسلام آباد میں پہلی مرتبہ منعقد کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے کہا ہے کہ ملک کے دارلحکومت کے منتظمین ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم پورے ملک کی ثقافت، فنون، روایات، تہذیب اور کلچر کو اسلام آباد میں فروغ دیں۔تفصیلات کے مطابق میلے کے تیسرے دن بھی رنگا رنگ پروگرام پیش کئے گئے۔ تیسرے دن کا آغاز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایسے نوجوانوں کو پروگرام یوتھ رول ماڈل میں مدعو کیا گیا. جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ اس پروگرام کے میزبانی کے فرائض ابصہ کنول نے ادا کئے۔ پروگرام میں بیڈمنٹن پاکستان کی عالمی سطح پر نمائندگی کرنے والی پلیئر عائشہ اکرم، فٹ بال اور باسکٹ بال پلیئر ثناء محمود، باکسنگ کے کھلاڑی محمد شعیب، آزاد کشمیر کی ثقافت کو اجاگر کرنے والی نامور فنکارہ با نو رحمت، آرٹ ڈائریکٹر کامران خان اور ٹیبل ٹینس میں عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والی راحیلہ نے حصہ لیا. جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نور الاامین مینگل نے بھی اس پینل ڈسکشن میں حصہ لیا۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عائژہ اکرم نے کہا کہ ان کی کامیابی میں سی ڈی اے کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ان کو جب بھی کسی عالمی یا ملکی مقابلے کے لئے تیاری کی ضرورت ہوتی تو سی ڈی اے انتظامیہ نے ان کو اقبال ہال بیڈمنٹن کورٹ مہیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونے کے لئے محنت بنیادی جزو ہے جس کے بعد والدین کا بچوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ اسی لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔فٹ بال اور باسکٹ بال کھیل میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ثناء محمود نے کہا کہ یہ دونوں کھیل مردوں کے کھیل تصور کئے جاتے تھے مگر محنت کے ساتھ میں نے یہ ثابت کیا کہ لڑکیوں کو اگر سہولیات دی جائیں تو وہ مردوں کے برابر ملک کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے والدین سے گزارش کی کہ وہ بچوں کو کھیل کے میدانوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں آگے برھنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس جگہ وہ کھیلتی رہی ہیں وہ بھی سی ڈی اے کا بنایا ہوا گراؤنڈ ہے۔ انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے سے درخواست کی شہر میں ایسی مزید سہولیات کا اضا فہ کیا جائے۔باکسنگ میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا پاکستان میں 36 طرح کے کھیل ہیں مگر باکسنگ میں وہ واحد کھیل ہے جس میں پسینے کے ساتھ ساتھ خون بھی بہتا ہے مگر ملک کے نام کی خاطر انہیں کبھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیشنل فائیٹ میں ابتک وہ ناقابل شکست ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی گلوگارہ بانو رحمت نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔ انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لئے بڑے چیلنجز سے نبردآزماء ہونا پڑا تاہم فیملی سپورٹ وہ عنصر ہے جس نے ان کو اس مقام تک پہنچایا۔ ملک کے نامور آرٹ ڈائریکٹر کامران خان نے کہا کہ ان کا شعبہ فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماڈلز کی تربیت کرنا اور ویڈیو گرافی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں پاکستان میں بہت کم کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دبئی فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں جہاں ان کے کام کو بہت سراہا گیا۔ٹیبل ٹینس کی عالمی پلیئر راحیلہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدقسمتی سے اسلام آباد میں ٹیبل ٹینس کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے چیئر مین سی ڈی اے سے گزارش کی اسلام آباد میں ان سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پینل سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن نورالامین مینگل نے کہا کہ سی ڈی اے کا کام سہولیات بنانا ہے اور سول سوسائٹی ہی ان سہولیات کو بہتر طریقے سے چلا سکتی ہے۔ اس لئے سی ڈی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سہولیات بنا کر س…















