نیویارک، 14 اگست 2026: ایران کے خلاف امریکی دباؤ میں اضافے اور بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا۔ ایران سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعہ کو برینٹ خام تیل کے سودوں میں 25 سینٹ یعنی 0.29 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 87.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 49 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 81.74 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں اہم بینچ مارکس رواں ہفتے تقریباً 4.5 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر نظریں
عالمی تیل مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال ہے۔ یہ اہم بحری راستہ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی روزانہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔
رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت رواں ہفتے معمول سے کم رہی۔ جمعرات کو صرف 9 مال بردار جہازوں نے اس راستے سے گزر کیا، جبکہ اگست میں روزانہ اوسط تعداد 12 رہی ہے۔ اسی دوران دو اماراتی جہازوں پر حملوں کی اطلاع بھی سامنے آئی، جس کے بعد خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے۔
گزشتہ روز قیمتوں میں کمی ہوئی تھی
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک روز قبل خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔ سرمایہ کاروں نے اس وقت عالمی طلب میں ممکنہ کمزوری اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافے کو زیادہ اہمیت دی تھی۔
تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں تازہ اضافے نے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات دوبارہ نمایاں کر دیے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔















