اسلام آباد(اے بی این نیوز)سینیٹ کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوسرے دن کا بھی پاکستان تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا،تقریب میں اپوزیشن کی کمی محسوس کی گئی حکومتی سینیٹر مشاہدحسین سید نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے دودن بعدتحریک انصاف کے سینیٹرز ایوان میںآجائیں گے ۔گولڈن جوبلی کے دوسرے روز مختلف ممالک کے سفراء بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور خطاب کئے ۔گولڈن جوبلی سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرز نے کہاکہ پاکستان کی جمہوریت کواپنے سرکاری نوکروں سے خطرہ ہے پارلیمنٹ کو ایک اسکرپٹ دیا جاتا ہے جس پر وہ چلتی ہے پارلیمنٹ کو عوام کا ترجمان بننا ہوگا ،پارلیمنٹ کو حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ایسا لگتا ہے کہ عالمی ایجنڈا چاہتا ہے کہ پاکستان وہ کردار ادا کرے جو ہماری قومی ترجیحات کے مطابق نہیں ، امریکی نمائندے کی جانب سے پاکستان کو دئیے جانے والا لیکچر کے جواب میں پاکستان کو سخت جواب دینا چائیے ۔پاکستان اپنے مسائل خود حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،آئی ایم ایف نے کیا مطالبہ کیا کہ لانگ رینج کے میزائل پروگرام روکیںآئی ایم ایف کون ہے ہم خودمختار قوم ہیں، قائدایوان ووزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد اس کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا عالمی طاقت پاکستان کو اس کے ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی سمیت سٹریٹیجک اثاثوں پر کوئی فیصلہ لینے پر مجبور نہیں کرسکتی ہم اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کی اہمیت اور ذمہ داری سے مکمل آگاہ ہیں۔یورپی یونین کی نمائندے نے کہاکہ کسی بھی جمہوری نظام میں پارلیمان کا کلیدی کردار ہوتا ہے پارلیمان جمہوری حکومت کے اقدامات پر نظر رکھتی ہے۔جمعرات کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ تحریک انصاف کے موجودہ وسابقہ سینیٹرز نے دوسرے روز بھی سینیٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات کا بائیکاٹ جاری رکھا اور قائدحزب اختلاف سمیت کو ئی بھی پی ٹی آئی کا سینیٹر ایوان میں نہیں آیا۔دوسرے روز ایوان میں موجودہ سینیٹرزوسابق سینیٹرز کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیر بھی موجود رہے اور انہوں نے بھی خطاب کیا ۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہاکہ سینیٹ نے علاقائی امن و استحکام میں بھی کردار ادا کیا ۔میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول میں سینیٹ کا کردار رہا ہے۔سینیٹ کے قیام کو پچاس سال مکمل ہوئے ۔اس عرصے میں سینیٹ نے جمہوریت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیاسینیٹ نے عوامی مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ایوان بالا نے پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کے تشخص کو عالمی سطح پر بہتر کرنے میں کردار ادا کیا۔قائد ایوان سینیٹ سینیٹراسحاق ڈار نے کہاکہ بہت خوشی ہے کہ اس اہم موقع پر غیر ملکی مندوبین بھی موجود ہیں۔سینیٹ نے پارلیمانی نظام جمہوریت میں فعال کردار ادا کیا۔اکتوبر 1999 ہماری ملکی تاریخ کا سیاہ وقت تھا۔ہم سینیٹ میں جمہوری اقدار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ سالانہ بجٹ میں سینیٹ کا کردار صرف تجاویز دینے تک کا ہے۔بطور وزیر خزانہ میں نے سینیٹ کی متعدد تجاویز کو سالانہ بجٹ کا حصہ بنایا۔ہمیں پاکستان میں غیر ملکی سفیروں ، ہائی کمشنرز کا بہت تعاون حاصل رہا۔جمہوریت کے ذریعے مالیاتی نظم و نسق میں شفافیت لائی جا سکتی ہے ۔وفاقی وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایوان کو کمیٹی آف ہول میں تبدیل کرنا بہت اچھا خیال ہے اس کی وجہ سے غیر ملکی سفرا بھی ایوان میں بیٹھ سکتے ہیں۔غیر ملکی سفرا ایوان میں ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہمارے پارلیمانی نظام کو قریب سے دیکھ سکتے ہیںسینیٹ نے جمہوری قدروں کی مضبوطی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا حالیہ سیلاب سے ہمارے سامنے ایک مختلف پاکستان دیکھنے کو ملا۔سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کا کردار ایک فیصد کے قریب ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہو رہا ہے۔عالمی برادری کو اس مسلے میں پاکستان سے مزید تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔سینیٹرمیاں رضا ربانی نے کہاکہ آج میں معمول سے ہٹ کر اسٹیبلشمنٹ پر تنقید نہیں کروں گاآج میں صرف پارلیمان کے کردار تک محدود رہوں گالاہور میں گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے امریکی نمائندے کی جانب سے پاکستان کو دئیے جانے والا لیکچر کے جواب میں پاکستان کو سخت جواب دینا چائیے ۔پاکستان اپنے مسائل خود حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پارلیمنٹ نے سابق آرمی چیف کی تو…















