اہم خبریں

کراچی میں یہودیوں کی گمنام عمارت ہو نے کا انکشاف

کراچی ( اے بی این نیوز   )کراچی کے ایک قدیم علاقے رنچھوڑ لائن میں ایسی عمارت موجود ہے جس کا اب تک تعین نہیں کیا جاسکا کہ آیا یہ عمارت ایک عبادت گاہ تھی یا صرف ایک امیر یہودی شہری کی رہائش گاہ تھی۔درحقیقت، یہ عمارت جس مقصد کیلئے بنائی گئی تھی اس کا تعین کرنا ناممکن ہے۔ اپنے زمانے کی اسی طرح کی تعمیرات کے برعکس، اس میں یہ ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ یہ کب تعمیر ہوئی، کس کی ملکیت تھی، یا اس کا کیا مقصد تھا۔اس عمارت کی تعمیر میں استعمال شدہ پتھروں اور مجموعی فن تعمیر کو دیکھتے ہوئے صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کب بنایا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ عمارت کی تمام معلومات یا تو وقت کے ساتھ ختم ہوگئی ہوں یا اسے متعدد سائن بورڈز اور پینٹس نے اپنے اندر چھپا لیا ہو۔تقسیم ہند سے پہلے مسلم تاریخ کا حصہ کراچی میں بہت کم نظر آتا تھا، جہاں اس شہر نے پارسیوں کے آتش گیر مندر، یہودی عبادت گاہوں، بیشتر عیسائی فرقوں کے گرجا گھروں اور برصغیر کے قدیم ترین مندروں کو جنم دیا، وہیں رنچھوڑ لائن میں کچھ دکانوں کے پیچھے چھپی ہوئی ایک بھولی بسری عمارت بھی اپنے آپ میں ایک منفرد نمونہ ہے۔کراچی کی اس عمارت پر ڈیوڈ اسٹار واضح طور پر نظر آتا ہے جو اسے دیگر عمارتوں سے منفرد اور کچھ مشکوک بناتا ہے۔اس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں درج تاریخی ورثے کی نگرانی اور تحفظ کے لیے بنائی گئی تکنیکی کمیٹی کے رکن، مدد علی شاہ سے جب سماء کے نمائندے نے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ مفاد پرست لوگ منظم طریقے سے شہر کی تاریخ کو مسمار کر رہے ہیں۔ ہمیں کوئ ایسی ٹیم مہیا نہیں کی جارہی جس کے ساتھ مل کر ہم ان تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔

متعلقہ خبریں