فیصل آباد میں ٹریفک پولیس TrafficPoliceکے رویے نے ایک بار پھر کئی سوالات کھڑے کر دیے، جہاں دو ہزار روپے کا چالانChallan ایک غریب محنت کش کیلئے ذہنی دباؤ کا سبب بن گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ شخص روزانہ دیہاڑی لگا کر اپنے گھر کا نظام چلاتا تھا۔ ٹریفک وارڈنز نے مبینہ طور پر اس کی گاڑی روک کر 2000 روپے کا چالان کیا تو وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔ شہری بار بار وارڈنز سے نرمی اور رعایت کی درخواست کرتا رہا، مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ غریب شخص کی آواز میں بے بسی صاف محسوس کی جا سکتی تھی، لیکن موقع پر موجود اہلکار اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
چند ہی لمحوں بعد متاثرہ شخص کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور وہ سڑک کنارے گر کر بے ہوش ہوگیا۔ حیران کن طور پر الزام ہے کہ ٹریفک وارڈنز نے شہری کو سہارا دینے یا فوری مدد فراہم کرنے کے بجائے موقع چھوڑ دیا۔ واقعے کے بعد اردگرد موجود لوگوں نے فوری طور پر ریسکیو اداروں کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم نے متاثرہ شخص کو ابتدائی طبی امداد دیتے ہوئے ہسپتال منتقل کیا۔
کے پی سے افسوسناک خبر،زمین خون سے نہا گئی،چار بھائیوں سمیت جا نئے کتنا جا نی نقصان ہوا
مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے اس دور میں غریب طبقہ پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں سخت رویہ کسی بھی انسان کو ذہنی طور پر توڑ سکتا ہے۔ واقعے نے نہ صرف فیصل آباد بلکہ پورے ملک میں ٹریفک پولیس کے رویوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔















