اہم خبریں

2G فیچر فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ ختم کرنے کی تجویز، موبائل صنعت کا شدید ردعمل

اسلام آباد (اے بی این نیوز) حکومت کی مجوزہ پالیسی میں 2G فیچر فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد موبائل فون صنعت نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔

موبائل فون مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کروڑوں کم آمدنی والے پاکستانی صارفین کے لیے سستے موبائل فونز کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ ملک میں قائم مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس اور ان سے وابستہ ہزاروں ملازمین بھی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PMPMA) نے خبردار کیا ہے کہ اگر 2G فیچر فونز کی مقامی پیداوار ختم کر دی گئی تو مزدور، کسان، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر کم آمدنی والے طبقات جدید مواصلاتی سہولتوں سے محروم ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے سستے فیچر فونز ہی قابلِ استطاعت ہیں۔


PMPMA کے چیئرمین حاجی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ 2G فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کا خاتمہ ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ وژن، صنعتی ترقی اور مقامی پیداوار کے فروغ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مقامی صنعت میں کی گئی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ پالیسی میں شامل متنازعہ کلاز 7.1 پر فوری نظرثانی کی جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جو صنعت، صارفین اور قومی معیشت کے مفاد میں ہو۔
مزید پڑھیں: ملک میں تیل اور گیس کا ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت

متعلقہ خبریں