وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ( shiza fatima ) نے خواتین کی ترقی اور بااختیاری ( Women Empowerment )پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی کا بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور ان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو جہاں بھی موقع دیا گیا انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ہر شعبے میں اپنی اہلیت ( Digital Skills, )ثابت کی۔انہوں نے کہا کہ معاشرتی پابندیاں اب بھی خواتین کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں، حالانکہ ان کی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں۔ اگر خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ تعلیم، صحت، کاروبار اور ٹیکنالوجی سمیت ہر میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں میڈیکل نشستوں کا کوٹہ ختم ہونے کے بعد طالبات نے میرٹ پر اکثریت حاصل کر کے ثابت کیا کہ انہیں صرف برابر مواقع درکار ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ خواتین کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے مردوں کے مقابلے میں دوگنی محنت کرنا پڑتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
وفاقی وزیر کے مطابق حکومتی اقدامات کے باعث کام کی جگہوں پر خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور نئے قانونی فریم ورک نے دفاتر میں ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے نہ صرف قومی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ پیداواری صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ٹیکنالوجی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی سکلز پروگرام میں خواتین کی رجسٹریشن 36 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ آئی ٹی ٹریننگ پروگرامز میں اسے 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے جاری پروگرام میں تین لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹرز میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مستقبل میں تربیتی پروگرامز میں خواتین کی نمائندگی کو کوٹے کے بغیر یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی اور ای کامرس نے پاکستانی خواتین کے لیے عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں کی خواتین کو کاروبار کے نئے مواقع مل رہے ہیں، اور تھر سے بلوچستان تک خواتین کے تیار کردہ فن پارے اب عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو بھی نئی شناخت ملی ہے۔
Women Empowerment, Gender Equality, Pakistan, IT Sector, Digital Skills, E Commerce, Female Participation, Economic Growth, Social Media, Breaking News















