پشاور (اے بی این نیوز )آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا ہے ’’کہ سازشی تھیوریوں کے ذریعے میرے جوانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں سڑکوں پر لے کر آنا میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، سازشی تھیوری پیش کی گئی کہ ڈرون حملہ کیا گیا، کوئی آئی ای ڈی پھٹنے کا دعویٰ کررہا ہے، یہ سب فضول باتیں ہیں، یہاں ہر بندہ سائنسدان بنا ہوا ہے۔ ہم دہشت گرد نیٹ ورک کے نزدیک ہیں اور سانحہ پشاور میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت بھی کرلی ہے جو پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معظم جاہ انصاری نے کہا کہ میں بطور آئی جی، میرے افسران اور میرے جوان بھی اس وقت تکلیف میں ہیں، گزارش کروں گا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، ہمیں سمجھا جائے، ہم بھی حساس لوگ ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ دھماکے میں 10 سے 12 کلو گرام تک انتہائی دھماکہ خیز مواد ’ٹرائنیٹروٹولین‘ استعمال کیا گیا تھا، ٹرائنیٹروٹولین دھماکوں سے پیدا ہونے والی دھمک کی لہروں کو پھیلنے کی جگہ نہیں ملتی، زیادہ تعداد میں شہادتوں کی یہی وجہ تھی۔ان کا کہنا تھا ’’کہ سوال کیا جارہا ہے کہ خودکش دھماکے میں اتنی شہادتیں کیسے ہوسکتی ہیں جبکہ زیادہ شہادتیں مسجد کی چھت گرنے کی وجہ سے ہوئیں، ہمیں سی سی ٹی فوٹیج بھی مل گئی ہے، ابھی ہزاروں موبائل فونز کی جیو فینسنگ کرنی ہے۔معظم جاہ انصاری نے دعویٰ کیا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے اور اب دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے قریب ہیں۔ دہشت گرد اکیلا نہیں تھا بلکہ پیچھے پورا نیٹ ورک تھا، خود کش حملہ آور کو ہدف دیا گیا جوکہ 12 بجکر 36 منٹ پر پولیس لائنز میں داخل ہوا۔ خودکش حملہ آور پولیس یونیفارم میں موٹر سائیکل پر آیا جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، موٹر سائیکل پر انجن اور چیسز نمبر جعلی تھا۔ موٹر سائیکل کو ڈرامہ کر کے سائیڈ پر لے کر گیا اور اس نے پولیس لائنز پہنچ کر حوالدار سے پوچھا مسجد کہاں ہے۔واقعہ میری کوتاہی ہے سپاہیوں کی نہیں تھی، صوبے کے لوگوں کے سامنے ملزمان کو لاؤں گا۔















