اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) پی ٹی آئی کے راہنما شعیب شاہین نے کہا ہے کہ حکومت میں موجود لوگوں کے پاس مینڈیٹ نہیں ،حکومت فارم 47کی بنیاد پر کھڑی ہے۔
پی ٹی آئی نے کبھی اس آئینی ترامیم کی حمایت نہیں کی۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ
بنیادی حقوق کا اگر خاتمہ کیا گیا تو پیچھے کیا رہ جائے گا۔ حکومت کا مسئلہ مہنگائی اور معیشت نہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ورکنگ ڈرافٹ پر ہم کافی عرصے سے کام کررہے ہیں۔
عدالتی اصلاحات میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ابھی جو ہم کام کررہے ہیں وہ ہمیں پہلے کرنے چاہیے تھے۔ یہ آئینی ترامیم کسی ایک مخصوص شخص کیلئے نہیں ۔ حکومت کے پاس نمبر پورے تھے لیکن کچھ مزید لوگوں کوعتماد میں لینا تھا۔
عوام پاکستان پارٹی کا ممبرمعیز جعفری نے کہا ہے کہ جوڈیشل ریفارمز کے بہانے ریاستی ڈکیتی فی الحال ناکام ہوئی۔ سپریم کورٹ کی موجودگی میں آئینی عدالت کا قیام سمجھ سے بالاتر ہے۔
اگر مسودہ تیار نہیں تھا تو اتنے لوگوں کو اسلام آباد میں کیوں جمع کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اوپر سول جج کو بٹھانا اختیارات ختم کرنے کے مترادف ہیں۔ حکومت نے بنیادی طور عدالتیں ختم کرنے کا پلان بنایا تھا۔
حکومت کو اتحادی بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مسودہ نہیں دکھایا گیا۔ فیصل واوڈا نے نمبرز پورے نہ ہونے پر حکومت کو نکما اور نااہل کہا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ آزاد امیدواروں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔
مزید پڑھیں :حکومت کو بڑا دھچکا،پیپلز پارٹی نے واضح اور دو ٹوک انداز میں جسٹس منصور علی شاہ کی حمایت کا اعلان کر دیا















