اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزیرقانون خود فرما رہے تھے میرے پاس کوئی دستاویزنہیں۔ حکومت کے پاس ڈرافٹ نہیں توبتائیں یہ نسخہ کہاں سے آیا۔
اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال۔ کہا افسوس اس پارلیمنٹ کی بےتوقیری کی گئی۔ پارلیمنٹ کوربڑاسٹیمپ کی طرح استعمال کرنےکی کوشش کی گئی۔ مولانا فضل الرحمان نے جیسے حالات کا مقابلہ کیا انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ سب سے زیادہ افسوس پیپلزپارٹی اوربلاول بھٹو پر ہے۔
بلاول بھٹوکوسب علم ہے ان کے پاس پورا ڈرافٹ ہے۔ آئینی ترمیم 25 کروڑعوام پراثراندازہوتی ہے۔ چھٹی والے دن ترامیم لانے کی کوشش چوری اورڈاکا نہیں۔
چپکے سے قانون سازی کوچوری کہتے ہیں۔ ہمارے 7 لوگوں کواغوا کیا گیا انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا ہے۔ اس ظلم کے ذریعے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہترموت ہے۔
مزید پڑھیں :راولپنڈی میں پراپرٹی ٹیکس کے اضافے پر غور، مالکان پریشان















