اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ حکومتی ارکان بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ۔ مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی مولانا فضل الرحمان کو لے کر کمیٹی اجلاس میں آئے۔
ایمل ولی خان کی اجلاس میں شرکت۔ سینیٹر شیری رحمان بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ۔ بیرسٹر گوہر ، عمر ایوب خان اور صاحبزادہ حامد رضا بھی اجلاس میں شریک ہیں
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم کے لیے خوشخبری ہوگی واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے وفود کی لگاتار مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ہوئی ہیں اور ہر ایک نے اپنی طرف سے ان کو قائل کرنے کی کوشش کی مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ بس اب اپ اگے دیکھتے جائیے کیا ہوتا ہے حکومت کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں ۔
اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کر دیے ہیں لیکن ادھر دوسری جانب مولانا عبدالغفور حیدری نے ان حکومتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے تحفظات موجود ہیں ہم نے بل کی کاپی مانگی ہے اور تاکہ ہم اپنی پارٹی سے مشورہ کر سکیں دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے فضل الرحمن سے ملاقات ختم ہونے کے بعد کہا کہ ملاقات ختم ہو گئی ہے۔
لیکن کوئی بریک تھرو سامنے نہیں ایا اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ابھی تک حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک جگہ پر کھڑے ہوئے ہیں لیکن اب فضل الرحمن جن خورشید شاہ کے مطابق انہوں نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں اور حکومتی اور اپوزیشن ارکان بھی وہاں پر موجود ہیں ۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی تک مسودہ نہیں ملا جس کی ہم نے ڈیمانڈ کی تھی۔ آئینی ترامیم کے حوالے سے مسودہ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
آئینی مسودے پر جے یوآئی نے مختلف پارٹیوں سے مشاور ت کی۔ حکومت کے دوستوں سے کہا مسودہ ہمیں فراہم کریں اور کچھ وقت دیں۔
ہم نے تجویز دی کہ آئینی ترامیم کو موخر کریں تاکہ مشاورت ہوسکیں ۔ اجلاس میں موقف رکھیں گے کہ ترامیم سے متعلق اتنی جلدی کیوں تھی۔















