اہم خبریں

ہمارے کسانوں کو ان کے بین الاقوامی اہم منصبوں کے برابر لانے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی: چیمہ

اسلام آباد(نامہ نگار  ) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ کی زیر صدارت وزیر اعظم کی جانب سے زراعت کی پیداوار میں بہتری کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے زرعی پیداوار میں بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرنے اور معیاری بیج، ان پٹ اور فارمی مشینری کی دستیابی کے لیے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ فورم زرعی شعبے کا جامع جائزہ لینے اور اس کی پیداوار کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے کو بہتر کرنے اور ہمارے کسانوں کو ان کے بین الاقوامی ہم منصبوں کے برابر لانے کے لیے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے فوڈ سیکیورٹی کمشنر وسیم الحسن نے کہا کہ پاکستان میں ترقی پسند کسانوں کی فی ایکڑ پیداوار ملک کی اوسط کے مقابلے زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریکٹر، کاشتکار مشین، ڈسک ہیرو، روٹاویٹر تقریباً ہر فصل میں استعمال ہوتے ہیں۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سیما کامل نے کمیٹی کو بتایا کہ بینکوں نے وزیراعظم کے کسان پیکج کا 45 فیصد مالیاتی ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاری کے مقصد کے لیے 444 ارب جبکہ لائیو سٹاک کے لیے 401 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں، جس سے 3.2 ملین کاشتکار گھرانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سیما کامل نے کہا کمرشل بینک جلد ہی فارم میکانائزیشن کے لیے 56 بلین کی رقم تقسیم کرنا شروع کر دیں گے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وہ کمیٹی کی تجاویز پر وزیراعظم کو بریفنگ دیں گے۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ظفر حسن نے کہا کہ وزارت نے بیج کے تھیلوں کے ٹریک اینڈ ٹریس پر بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ 3 ماہ کے عرصے میں فعال ہو جائے گا اور بیج کے معیار اور دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

متعلقہ خبریں