اسلام آباد(نیوزڈیسک)نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے چلینجزکے باوجود جمہوری تسلسل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کےخطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا۔ انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ 2018 میں الیکشن کے نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے، ہمارے یہاں الیکشن کے نتائج 36 گھنٹوں میں مکمل ہوئے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔پرامن احتجاج ماضی میں بھی ہوئے یہ آئینی حق ہے، ہوسکتا ہے کہیں نتائج میں بے قاعدگی ہو، متعلقہ فورم موجود ہے، رپورٹس تھی غیر ریاستی عناصر موبائل سم کے ذریعے دھماکے کریں گے۔
پیر کو پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فروری کو پاکستان کو عوام نے ووٹ کاسٹ کیا، انتخابات کے کامیاب انعقاد میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار اداکیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، خطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا، اس دوران بین الاقوامی مبصرین موجود رہے۔
مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج سے متعلق سوال پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پرامن احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہے، انارکی پھیلانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے۔
مزیدپڑھیں:سانحہ 9مئی دہرانے کی کوشش کی گئی تو سخت ایکشن ہو گا،محسن نقوی
انہوں نے کہاکہ 2018 میں الیکشن کے نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے، ہمارے یہاں الیکشن کے نتائج 36 گھنٹوں میں مکمل ہوئے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ماضی میں بھی ہوئے یہ آئینی حق ہے، ہوسکتا ہے کہیں نتائج میں بے قاعدگی ہو، متعلقہ فورم موجود ہے، رپورٹس تھی غیر ریاستی عناصر موبائل سم کے ذریعے دھماکے کریں گے۔















