کیف (نیوزڈیسک)یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ترکیہ کے دورے سے واپس آتے ہوئے اپنے ساتھ ماریوپول میں یوکرین کے گیریژن کے پانچ سابق کمانڈروں کو گھر لے آئے ہیں، ان کناڈروں کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ترکیہ میں ہی رہنا تھا۔ جبکہ روس نے فوری طور پر ان افراد کی رہائی کی مذمت کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ترکیہ نے قیدیوں کے تبادلے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور ماسکو کو مطلع کرنے میں ناکام رہا ہے۔یوکرین میں ہیرو سمجھے جانے والے مذکورہ کمانڈروں نے گزشتہ سال ماریوپول بندرگاہ کے دفاع کی قیادت کی تھی، جو روسی حملے میں ہتھیایا گیا سب سے بڑا شہر تھا۔حملے کے نتیجے میں ماریوپول میں ہزاروں شہری مارے گئے، روسی افواج نے تین ماہ کے محاصرے کے دوران شہر کو برباد کر دیا۔یوکرین کے ان محافظوں نے ازوسٹال سٹیل پلانٹ کے نیچے سرنگوں اور بنکروں میں قیام کیا، یہاں تک کہ کیف نے انہیں گزشتہ سال مئی میں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔















