واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی صدور کو حاصل فوجی طاقت کے استعمال کے اختیار میں کمی کیلئےامریکی سینیٹ کئی دہائیوں پرانی قانون سازی کو منسوخ کرنے کی طرف قدم اٹھا رہی ہے جس میں امریکی صدور کو عراق میں جنگ کے لیے فوجی وسائل کے استعمال کے وسیع اختیارات حاصل تھے۔ دو نوں پارٹیوں کی کوشش اس وقت سامنے آئی ہے جب بہت سے امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ کانگریس کو اپنا اختیار دوبارہ حاصل کرنا چاہیے اور فوجی طاقت کے غلط استعمال کو روکنا چاہیے۔ امریکی صدور کو دیئے جانیوالے سب سے اہم اختیارات میں سے ایک جنگی اختیارات ۔یا امریکی حملوں کیلئے ملٹری فورسز کا استعمال ہے۔کانگریس نے 1991 کی خلیجی جنگ اور 2003 کے عراق پر امریکی حملوں کے لیے ملٹری فورسز – یا AUMFs کے استعمال کیلئے اجازت دی تھی۔AUMFs نے امریکی صدور کو اختیار دیا تھا کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی آپریشن کرسکتے ہیں۔ امریکی آئین کے تحت کمانڈر انچیف کی حیثیت رکھنے والے صدور نے طویل عرصے تک اکثر کانگریس کی منظوری کے بغیر یا کانگریس کی ہلکی سی آشیر باد کے ساتھ فوجی کارروائیاں کی ہیں۔کبھی عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ڈھونڈنے ،کبھی مشرق وسطیٰ میں بغاوتوں کو کچلنے اور کبھی افغانستان میں دہشت گردی کی جنگ کے مقابلے کے لیے ،امریکی صدور نے ان جنگی اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا۔سینیٹ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے لیے 2001 میں افغانستان میں لڑائی جاری رکھنے کے لیےفوج استعمال کرنے سے متعلق بھاری اکثریت سے ووٹ دیا تھا۔سینیٹ میں اکثریتی لیڈر سینیٹر چک شومر کہتے ہیں کہ امریکی عوام مشرق وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والی جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ بہت سے امریکیوں کو عراق جنگ کے ابتدائی سال یاد بھی نہیں اور وہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ہر سال ہم فوج استعمال کرنے کے اختیارات کو آئندہ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور مستقبل کی انتظامیہ ایک اور سال ان کا غلط استعمال کر سکتی ہے۔ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن کا کہنا ہے کہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کبھی نہیں ملے۔اب کئی دہائیوں بعد، ان میں سے کچھ اختیارات ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔سینیٹر ڈربن کا کہنا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کے اس اختیار کو منسوخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ایک آئینی قوم بننے جا رہا ہے۔قانون سازوں نے برسوں ،یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ اختیارات بہت پرانے ہیں، اے یو ایم ایفس کو منسوخ کرنے کی کوشش کی۔اب ایک بار پھر وہ یہ کوشش کر رہے ہیں۔















