اسلام آباد(نیوزڈیسک)سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے رجسٹرار کے ذریعے حکومت سے کہا تھا کہ چونکہ میں بطور سابق جج دو ہزار یونٹ ماہانہ بجلی مفت استعمال کر سکتا ہوں۔ تو چونکہ میں نے سولر سسٹم لگوایا ہوا ہے تو دو ہزار یونٹ ماہانہ کے پیسے مجھے دیے جاویں۔ آج فنانس ڈویژن کی جانب سے خط لکھ کر سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار کوبتایا گیا ہے کہ ہے دو ہزار یونٹ ماہانہ تو مفت دیے جاتے ہیں لیکن وہ اگر استعمال نہ ہوں تو ان کے بدلے میں پیسے دینے کی کوئی پالیسی نہیں۔ دفتری انداز میں لکھے گئے اس خط کا پنجابی ترجمہ آپ خود کر لیں۔ بہت مزہ آ ئے گا۔سرکاری خزانے کو یہان اشرافیہ نے چراگاہ سمجھا ہوا ہے۔ جیسے یہ ملک ان لوگوں نے فتح کیا ہوا۔ اندازہ کریں دو ہزار یونٹ ماہانہ مفت بجلی۔ ریاست ان لوگوں کو پالے یا عوام کو؟ وزارت خزانہ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی کی جانب سے 2 ہزار یونٹس بجلی کے استعما ل پر رقم فراہم کرنے سے انکار کر تے ہوئے کہا ہےکہ قواعد اس رقم کی ادائیگی کی اجازت نہیں دیتے۔وزارت خزانہ ریگولیشن ونگ کی جانب سے اسسٹنٹ رجسٹرار کو بھجوائے گئے سرکاری خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کی مراعات کے آرڈر 1997میں کہا گیا ہے کہ جج کی ریٹائرمنٹ پر اور اس کی موت کے بعد اس کی بیوہ سرکاری خرچ پر2 ہزار یونٹس کے استعمال کا استحقاق رکھنے کے بارے میں جو حوالہ دیا گیا ہے اس قاعدے کی رو سے حکومت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی جانب سے خرچ کی گئی بجلی میں سے زیادہ سے زیادہ2 ہزار یونٹس تک کی بجلی کے استعمال کے اخراجات اٹھاسکتی ہے۔یہ2 ہزار یونٹس زیادہ سے زیادہ حد ہے اور موجودہ قواعد مندرجہ بالا مونیٹائزیشن ( رقم ادا کرنے ) کی اجازت نہیں دیتے لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ مزید ضروری اقدام کریں۔ واضح رہے کہ جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی نے 3 اکتوبر کو وزارت خزانہ کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا تھا کہ 3 سال تک کے 2 ہزاریونٹس ماہانہ ان کے بجلی کے بل کی نیٹ مانیٹرنگ میں ایڈجسٹ کیے جائیں کیونکہ انہوں نےاپنے گھر پر سولر سسٹم لگوالیا تھا جس کی وجہ سے وہ ججز کو استحقاق کے مطابق حاصل سہولت سے فائدہ نہیں اٹھاپائے۔















