ڈیرہ اسماعیل خان(نیوزڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ سابق حکومت نے توڑا، خمیازہ ہم نے بھگتا،سر منڈواتے ہی اولے پڑ گئے،جب منصب کا حلف اٹھایا تو احساس تھا حالات مشکل ہیں،یہ اندازہ نہیں تھا کہ حالات حد درجہ تباہ کن ہیں ،پاکستان کی تاریخ کا تباہ کن سیلاب آیا،سیلاب کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے، ملک میں سیلاب سے متاثرہ ہر علاقے کا دورہ کیا،متاثرہ علاقوں کیلئے فنڈز مہیا کئے،صوبوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالا،وسائل کی محدود قلت، مہنگا تیل اور مہنگائی نے مشکلات کھڑی کیں،دہشتگردی اور سیاسی افرا تفری جیسے چیلنجز کا بھی سامنا کیا،میں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کبھی ایسے چیلینجز کا سامنا نہیں کیا،مولانا صاحب پوچھتے تھے کیا ہم نے عوام کو مہنگائی دینے کیلئے حکومت سنبھالی ہے،جب ہم نے حکومت سنبھالی تو سب پریشان تھے،عمران نیازی نے سیاست چمکانے کیلئے ریاست کو قربان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،ہم اس فیصلے پر ڈٹ گئے، طے کر لیا تھا کہ ریاست کو بچانا ہے،ریاست بچانے کیلئے ہم نے بڑی قیمت ادا کی لیکن ہمارے قدم ڈگمگائے نہیںہم ریاست بچانے کی خاطر ثابت قدم رہے،نیازی کی حکومت کی بدنیتی کی وجہ سے ہمیں اربوں روپے کی گندم باہر سے منگوانی پڑی،اس سال پچھلے کئے سال کے مقابلے میں کپاس کی ریکارڈ فصل پیدا ہونے جا رہی ہے،مخلوط حکومت نے فیصلہ کیا ریاست بچائیں گے، اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو ہمیں ادویات اور خوراک کے لالے پڑ جاتے، قلیل مدت میں تاریخ کے مشکل ترین چیلنجز ورثے میں ملے،ہمیں اربوں روپے کی گندم باہر سے منگوانا پڑی۔سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے،مختصر دور حکومت میں چینلجز سے نمٹنے کی کوشش کی،یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے،ایک طرف سیلاب اور دوسری طرف تیل مہنگا تھا،چیئرمین پی ٹی آئی نے ریاست چمکانے کیلئے ریاست کو قربان کرنے کی کوشش کی۔















