اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکی سائفر کی کہانی – سابق پرنسپل سیکرٹری کی زبانی۔،اعظم خان نے سائفر کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دی۔سابق وزیراعظم کے حوالے سے مزید اہم انکشافات بھی چارج شیٹ میں شامل ۔8 مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے اعظم خان کو سائفر کے بارے میں بتایا۔شاہ محمود قریشی وزیراعظم کو سائفر کے متعلق پہلے ہی بتا چکے تھے۔عمران خان نے سائفر کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بنانے کے لئے استمعال کرنے کا فیصلہ کیا۔عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی۔سائفر واپس مانگنے پر عمران خان نے اسکے گم ہونے کے متعلق بتایا۔اعظم خان کے مطابق عمران خان نے انکے سامنے سائفر کو عوام کے سامنے بیرونی سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی بات کی۔28 مارچ کو بنی گالا میٹنگ اور 30 مارچ کو سپیشل کیبنٹ میٹنگ میں سائفر کا معاملہ زیربحث آیا۔میٹنگز میں سیکرٹری خارجہ نے شرکاء کو سائفر کے مندرجات کے متعلق بتایا۔توشہ خانہ کیس ،ممنوعہ فنڈنگ اور القادر ٹرسٹ بارے بھی بیان میں اہم معلومات دی گئی ہیں ۔ اعظم خان کے 164 کے بیان کی وڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے، اعظم خان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے انکے سامنے سائفر کو عوام کے سامنے بیرونی سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی بات کی۔سابق وزیراعظم کے لاپتہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اچانک منظر عام پرآگئے، اعظم خان نے سائفر سے متعلق اہم انکشافات کر دیئے،لہرایا جانے والا سائفر جعلی تھا اور یہیں پر بنایا گیا،حکومت کو گھر بھیجنے میں کوئی امریکی سازش نہیں تھی ۔سابق وزیرا عظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ، ذرائع کے مطابق بیان 164 کے تحت اپنا بیان مجسٹریٹ کو ریکارڈ کرا دیا ، اعظم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف بیان ریکارڈ کرایا،اعظم خان نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ، سیاسی مقاصد کے حوالے سے سائفر ڈرامہ رچایا گیا ،















