اہم خبریں

ملٹری کورٹس میں ٹرائل کیس، سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کوجمعہ تک جواب جمع کروانے کا حکم

اسلام آباد(اے بی این نیوز)ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے بعد موثر اپیل کا حق ملے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کو پرسوں تک جواب دینے کا حکم ،ملٹری کورٹس میں سویلین ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی ۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں اپیل کا حق دینا ہے تو قانون سازی سے دیں،آپ یہ چیز عدالت سے کیوں مانگ رہے ہیں، چیف جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مطمئن کرنا ہو گا کہ ٹرائل کے بعد اپیل کاحق ہو گا،کیا جاسوسی کے الزام میں گرفتار کلبھوشن کو ہائیکورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا۔۔۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے وہ ایک “ایلین ” کو حق دیا گیا، اٹارنی جنرل،وہ “ایلین ” ہے یا انڈین؟ لفظ “ایلین’ کی تو کچھ اورتشریحات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کے مسکراتے ہوئے ریمارکس،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت بنی کسی عدالت میں اپیل کا حق ملے گا یا نہیں سوال یہ ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو ایک تجویز دیتے ہیں آپ ہدایات لے کر آئیں،آپ ہدایات لیکر بتائیں اپیل کاحق ملنا ہے یا نہیں،آپ کب تک ہدایات لیکر بتا سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے پرسوں تک کا وقت دے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعہ پر فوج نے لچک کا مظاہرہ کیا۔سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔اٹارنی جنرل نے 9 مئی واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس لاہور ، میانوالی ، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، بنوں میں واقعات پیش آئے، پی ایف بیس میانوالی کی باؤنڈری دیوار کو نشانہ بنایا گیا، جہاں میراج فائٹر طیارے موجود تھے، حمزہ کیمپ آئی ایس آئی آفس راولپنڈی، سگنل میس اور اے ایف آئی سی ، چکلالہ راولپنڈی پر بھی حملے ہوئے۔

متعلقہ خبریں