اسلام آباد (اے بی این نیوز) پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے مبینہ طور پر ایک نجی آئل کمپنی کے مالی مفادات کے تحفظ کا معاملہ سامنے آگیا، جبکہ جورا انرجی کی جانب سے اہم ملکی قوانین کی خلاف ورزی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق جورا انرجی کے 73.3 فیصد کنٹرولنگ شیئرز آئی ڈی ایل انویسٹمنٹ کمپنی کو منتقل کیے گئے، تاہم تیل اور گیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے کنٹرولنگ حقوق کی منتقلی حکومت پاکستان کی پیشگی اجازت سے مشروط ہوتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جورا انرجی نے حکومت پاکستان کی لازم اجازت کے بغیر اپنے کنٹرولنگ حقوق نئی کمپنی کو منتقل کیے، جو متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کے بجائے صرف وارننگ جاری کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ یہ تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔
قانون کے تحت تیل اور گیس کے ذخائر پر کام کرنے والی کوئی بھی کمپنی اپنے مالکانہ یا کنٹرولنگ حقوق حکومت پاکستان کی پیشگی اجازت کے بغیر منتقل نہیں کرسکتی۔ ذرائع کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں حکومت پاکستان کو معاہدہ ختم کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ قوانین کا مقصد ملک کے تیل اور گیس کے ذخائر کو پاکستان مخالف عناصر یا لابی کے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ قانون نے بھی جورا انرجی کے کنٹرولنگ حقوق کی منتقلی کو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارتِ قانون کی رائے سامنے آنے کے باوجود پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے صرف وارننگ کی تجویز دیے جانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ معاملے میں نجی کمپنی کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے پٹرولیم ڈویژن کے کردار پر بھی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں:صدر مملکت کا انڈونیشین نیول چیف کو بڑا اعزاز، نشان امتیاز عطا کردیا















