لاہور (اے بی این نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت سے پیر کو مذاکرات شروع ہوں گے، تاہم مطالبات تسلیم ہونے تک جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی مذاکرات کے چکروں میں نہیں آئے گی، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر پیر کو حکومت نے مذاکرات میں مناسب پیش رفت نہ کی تو منگل کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جائے گی، جبکہ لانگ مارچ کا آپشن بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی کال دی گئی تو پورے پاکستان سے عوام نکلیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی صورت قبول نہیں، حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ سفری سہولیات میسر نہیں جبکہ مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ 11 ہزار اسکولز کیوں فروخت کیے گئے؟ آئین کے مطابق میٹرک تک بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل جدوجہد کے ذریعے حکمرانوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے، ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام میں شعور بڑھ رہا ہے اور حکومت جماعت اسلامی کے دھرنوں سے پریشان ہو چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو مارچ کرتی ہے تو جماعت اسلامی اس کی تائید کرے گی۔ جلسے، جلوس، مارچ اور احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، پی ٹی آئی کو پنجاب میں بھی احتجاج کی اجازت ملنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد جماعت اسلامی کی تحریک صرف پٹرولیم لیوی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ’’حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ‘‘ تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں:خام تیل کی قیمت میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار















